وفاقی کابینہ کی پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری

13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ

13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار802ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں گھپلوں سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری دیدی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں تعمیراتی شعبے کو سیلز ٹیکس کی چھوٹ دینے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری رہائشگاہ سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی بھی منظوری دی گئی جس کے تحت وقت سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین 6 ماہ سے زیادہ سرکاری رہائش استعمال نہیں کر سکیں گے۔ وفاقی کابینہ نے توانائی کے شعبے میں گھپلوں سے متعلق انکوائری رپورٹ سامنے لانے کی منظوری بھی دیدی۔

مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو

اجلاس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی معاونِ خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ نے مسابقتی کمیشن کی تشکیل نو سے متعلق سفارشات کی منظوری دے دی، کمیشن کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ری اسٹرکچر کیا جائے گا، مسابقتی کمیشن ماضی میں مخصوص شخصیات کو تحفظ دیتا رہا، اس کےخلاف 27درخواستیں دائر ہوچکی ہیں، مسابقتی کمیشن کے اسٹیک ہولڈر نے ریاست کے27ارب روپے واپس کرنے ہیں۔

اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل نو

معاون خصوصی نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے اقلیتوں کے قومی کمیشن کی تشکیل نو کی بھی منظوری دی ہے جس میں اقلیتوں کی اکثریت ہوگی اور اقلیتی برادری سے ہی چیئرمین منتخب ہوں گے۔

انکوائری رپورٹ

پاورسیکٹر انکوائری رپورٹ کے مندرجات کے مطابق 13سال میں قومی خزانے کو 4ہزار 802ارب روپے کا نقصان ہوا. جس میں سبسڈی اور گردشی قرضے کی وجوہات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں گردشی قرضے اور بجلی کے نرخوں میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کرنے اور آئندہ 5سال تک نیا پاورپلانٹ لگانے پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا سبسڈی اور گردشی قرضے میں صوبوں کوشامل کیا جائے، زیرتعمیر پاورپلانٹس پر نظرثانی کی جائے اور 25سال والے پلانٹس سے بجلی خریداری بند کی جائے، نیز کے الیکٹرک کو 1600میگاواٹ کے نئے پاورپلانٹ لگانے سے روکا جائے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر آئی پی پیز کے پے بیک کا دورانیہ 2سے4سال کے درمیان رہا، 16آئی پی پیز نے 50ارب80کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور 415ارب روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو