وطن عزیز میں بیٹیوں کی عصمت دری ہوتی ہے لیکن انصاف کہیں نظر نہیں آتا. امیر تنظیم الاخوان پاکستان


موجودہ قوانین کا اطلاق اگر مساوات کے ساتھ ہو جائے تو پھر اس طرح بیٹیوں کی عصمت دری کرنے کی کسی کو جرات نہ ہوگی۔

معاشرہ کی تکمیل، رشتوں کا تقدس اور عدل میں مساوات تب ہی ممکن ہے جب ہم اسلام کے سنہری اصولوں کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ایک بیٹی کی عصمت دری کی گئی میڈیا نے اس درد ناک سانحہ کو بہت زیادہ اجاگر کیا۔ لیکن لمحہ فکریہ یہ ہے کہ صاحب اقتدار سے لے کر عام آدمی تک کسی نے اس درد ناک سانحہ کا درد محسوس نہ کیا۔ یاد رکھیں جن کے پاس قوت نافذہ ہے وہ یقینا روز آخرت اپنے اختیار کے متعلق ضرور جوابدہ ہونگے۔

ہمارے ملک کا نظام عدل ایسا ہے کہ ہمیں انصاف مل نہیں رہا بلکہ ہم انصاف بھگت رہے ہیں۔ اگر ہمارا معاشرہ مسلم معاشرہ ہے ہمارا اللہ کریم اور نبی کریم ﷺ پر مضبوط ایمان ہے تو پھر ہم آپ ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کیوں نہیں کر رہے۔ہمارے حکمران نظام پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن تبدیل نہیں کر رہے جب روش وہی ہو گی جس پر چل کر گمراہی اور برائی پھیلتی ہے تو پھر ہمارے معاشرے میں تبدیلی کیسے آسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات کم ہوتے ہوئے نظر نہیں آتے۔کیونکہ ہماری سمت درست نہیں ہےلوگ مسلمان ہونے کے باوجود اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ملک پر اسلام نافذ ہو جائے۔یہ کیسی مسلمانی ہے دعوی ایمان بھی ہے لیکن عملی زندگی میں ہم اسلام سے دور بھاگتے ہیں۔

لوگوں کے پاس قوت خرید نہیں رہی جس کے پاس پیسہ ہے اسے بازار سے چیز نہیں مل رہی۔رشتے ہیں مگر تقدس ختم ہو گئے۔ہم مسلمان ہیں تو کیا ہمیں خود کو دیکھنا نہیں چاہیے اپنے کردار کو دیکھیں، جس کی مخلوق ہیں جو ہمارا خالق ہے کیا ہمیں اللہ کریم کے احکامات پر عمل نہیں کرنا چاہیے۔اگر میں پورے ملک پر اسلام نافذ نہیں کر سکتا تو اپنے اس 6 فٹ کے پاکستان اپنے وجود پر تو اسلام نافذ کر سکتا ہوں۔کیا ہمیں اپنے معاملات اپنی گفتگو لین دین اسلامی نہیں کرنا چاہیے۔کیا میں خود لوگوں کے ساتھ انصاف کر رہا ہوں یا دھوکہ دے رہا ہوں۔میری گفتگو میں سچائی ہے یا منافقت ہے۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں اور دین اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)

حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مدظلہ عالی

شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و امیر تنظیم الاخوان پاکستان

خطاب جمعتہ المبارک دارالعرفان منارہ، ضلع چکوال 11 ستمبر 2020ء

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو