واٹس ایپ بھارتی حکومت کیخلاف دہلی ہائی کورٹ

سماجی رابطوں کی ایپلی کیشن واٹس ایپ نے نئی انٹرنیٹ پالیسی پر مودی سرکار کے خلاف نئی دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا۔

واٹس ایپ انتظامیہ نے موقف اختیار کیا کہ نئے قوانین واٹس ایپ کی پرائیویسی کے خلاف ہیں، حکومت کے اس فیصلے سے لوگوں کی رازداری ختم ہوجائے گی۔

آزادی اظہار رائے کی دعوے دار مودی حکومت نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کو کچلنے اور مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے سوشل میڈیا سے متعلق نئے سخت قوانین آج سے نافذ کرادیے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز بھارتی پولیس نے ٹوئٹر کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا تھا۔

مودی حکومت ٹوئٹر پر مخالفین کے اکاؤنٹ بند کرانا چاہتی ہے لیکن ٹوئٹر انتظامیہ اس کے خلاف مزاحمت کررہی ہے۔ بھارت میں اب واٹس ایپ پر بھی قدغنیں لگانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ مودی حکومت نے نئے ڈیجیٹل اصول متعارف کرائے ہیں جس کے تحت واٹس ایپ کو حکومت کو لازماً یہ بتانا پڑے گا کہ کوئی بھی میسیج (پیغام) سب سے پہلے کس موبائل سے بھیجا گیا ہے۔

واٹس ایپ نے دہلی ہائی کورٹ میں مودی حکومت کے خلاف دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا کہ نئے قوانین صارفین کی ذاتی گفتگو کے تحفظ کی خلاف ورزی اور اور بھارتی آئین سے متصادم ہیں۔

واٹس ایپ نے کہا کہ چیٹ (گفتگو) کو سراغ لگانے والا یہ قانون ہر واٹس ایپ میسیج کا نشان رکھنے کے مترادف ہے جس کے نتیجے این ٹو اینڈ انکرپشن بے کار ہو جائے گی اور حق رازداری کی خلاف ورزی ہوگی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو