نانبائیوں کی ہڑتال 11 ویں روز بھی جاری، وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے کا اعلان

کوئٹہ میں روٹی کے نئے ریٹ مقرر کرانے کے لیے نانبائیوں کی ہڑتال 11 ویں روز بھی جاری ہے جب کہ حکومتی رویے کے خلاف نان بائی ایسوسی ایشن کی جانب سے دھرنے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔

تندور بند ہونے سے مسافروں اور مزدوروں سمیت شہریوں کو روٹی کے حصول میں پریشانی کا سامنا ہے جب کہ شہر میں کھلے چند ایک تندور مالکان نے روٹی کی قیمت ازخود بڑھاتے ہوئے 30 روپے کر دی ہے۔

اسی طرح ہوٹل مالکان نے 10 روپے میں فروخت ہونے والی چپاتی کے نرخ 20 روپے کر دیے ہیں۔

نانبائی ایسوسی ایشن کے چیئرمین نعیم خلجی نے مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکٹر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نانبائیوں کی ہڑتال کو 10 روز گزر چکے ہیں، حکومت کی جانب سے اب تک روٹی کا نیا ریٹ نہیں دیا گیا۔

چیئرمین نعیم خلجی نے کہا کہ حکومتی رویے کے خلاف نانبائی ایسوسی ایشن کی جانب سے 2 نومبر کو وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

اس موقع پر مرکزی انجمن تاجران کے صدر عبدالرحیم کاکٹر نے کہا کہ اگر دھرنے کے دوران حکومت کی جانب سے نانبائیوں کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا تو مرکزی انجمن تاجران شہر میں شٹر ڈاؤن کی کال دے گی۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کا کہنا ہے کہ تندور مالکان کے تمام تحفظات کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہے ہیں، ایسا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو