مودی سرکار کی کسان دشمن پالیسیوں پر دنیا بھر میں بھرپور احتجاج

مودی سرکار کے دور میں پہلے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے قید خانے میں تبدیل کیا گیا، پھر شہریت کے کالے قانون سے اقلیتوں کے بنیادی حقوق چھینے اور اب کسانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔

ایک بار پھر دنیا بھر میں بی جے پی کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا۔ مودی سرکار کی کسان دشمن پالیسیوں کے خلاف دُنیا بھر میں احتجاج جاری ہے بالخصوص کسانوں کے معاشی قتل کے خلاف سِکھوں کے نعروں سے مغربی دُنیا گونج اُٹھی۔

لندن میں مودی سرکار کی کسان دشمن پالیسی اور کسانوں پر ریاستی جبر کیخلاف مظاہر کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے سِکھ رہنما ڈاکٹر اَمر جیت سنگھ نے پاکستانی حکومت، اداروں اور خصوصی طور پر پاکستان میڈیا سے ہندوتوا کے خلاف مدد کی اپیل کر دی۔

خالصتان تحریک کے رہنما نے مزید کہا کہ سِکھوں کی آواز کو دُنیا بھر میں اُجاگر کرنے میں پاکستان اپنا کردار ادا کرے۔ اس موقع پر انھوں نے سِکھ فوجیوں کو خالصتان تحریک میں شمولیت کی دعوت بھی دے دی۔

قبل ازیں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو نے بھی بھارت کے کسانوں کے حکومتی پالیسیوں کیخلاف مظاہرے کی حمایت کی تھی اور مظاہرین پر طاقت کے استعمال پر مذمت کی تھی جس پر بھارتی حکومت نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کینڈین ہائی کمشنر کو بھی طلب کیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت میں کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے دہلی چلو تحریک نے مودی سرکار کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ کسانوں سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج پورے مُلک میں پھیل گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو