ممتاز سائنسداں کی ذاتی اشیاء

ممتاز سائنسداں اسٹیفن ہاکنگ کے دفتر اور ذاتی اشیا لندن کے مشہور سائنس میوزیم میں رکھی گئی ہیں۔ اس ضمن میں کیمبرج یونیورسٹی لائبریری، حکومتِ برطانیہ اور سائنس میوزیم کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے۔ معاہدے کے بدلے ہاکنگ کی فیملی کے ٹیکس میں بھی تخفیف کی جائے گی۔

تاہم ہاکنگ کے بعض ذاتی خطوط اور اشیا کیمبرج لائبریری میں ہی رہیں گی جن میں بریف ہسٹری آف ٹائم نامی مشہور تصنیف کا پہلا مسودہ اور 1944ء سے 2008ء تک کے خطوط شامل ہیں۔ تاہم میوزیم میں ان کی وھیل چیئر اور، سائنسی شرطیں جن پر ہاکنگ کے انگوٹھے کے نشانات ہیں، پی ایچ ڈی مقالہ اور میڈل بھی ہیں۔ واضح رہے کہ اس عظیم سائنسداں کی وفات 2018ء میں 76 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔

اس کے علاوہ سمپسن سیریز کے دسویں سیزن میں اسٹیفن ہاکنگ کو دکھایا گیا تھا اور اس پر ایک ماڈل بنایا گیا تھا جسے اب عام افراد بھی دیکھ سکیں گے۔

لندن سائنس میوزیم سے وابستہ سرجان بلیچ فورڈ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلیں ممتاز نظری طبیعیات داں اسٹیفن ہاکنگ کی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ اسٹیفن ہاکنگ نے طبی قوانین کو غلط ثابت کرکے طویل زندگی پائی اور طبیعیات کے قوانین کو نئے سرے سے لکھ کرلاکھوں کروڑوں افراد کو دلوں کو تبدیل کیا۔

2017ء میں کیمبرج یونیورسٹی لائبریری نے اسٹیفن ہاکنگ کے پی ایچ ڈی مقالے کو اسکین کرکے عام افراد کے لیے ویب سائٹ پر رکھا تھا۔ اسٹیفن ہاکنگ کو 22 برس کی عمر میں شدید معذور کرنے والی بیماری ’موٹرنیورون ڈیزیز‘ لاحق ہوئی تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ وہ محض چند برس ہی زندہ رہ سکیں گے لیکن نہ صرف ہاکنگ نے غیرمعمولی عمر پائی بلکہ انہوں نے نظری طبیعیات کے اہم پہلوؤں مثلاً بلیک ہول، سنگیولیرٹی اور کونیات کے ان گنت رازوں پر قابلِ قدر تحقیقی کام پیش کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو