مقبوضہ کشمیر میں اردو کا مستقبل خطرے میں

5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو بزور طاقت ختم کرکے خطے کے مسلم تشخص کو ببانگ دہل ختم کرنے کا آغاز کر دیا۔ اس میں ریاست میں اردو کی مرکزی حیثیت کو ختم کرنا اور کشمیری زبان کے رسم الخط کو بدل دینا بھی شامل ہے۔

اردو کے بارے میں مودی سرکار کے مستقبل کے پلان کا اندازہ صرف دس دن بعد اس وقت ہوا جب بھارت کے یوم آزادی 15 اگست کی سرکاری تقریب میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے اپنا خطاب شدھ ہندی میں کیا، جو محصور کشمیریوں کو سرکاری ٹیلیوژن کی وساطت سے دیکھنے کو ملا.

معلوم نہیں کہ اس پر کسی جانب سے کوئی تبصرہ بھی ہوا یا نہیں کیونکہ اس وقت سب کشمیری سخت ترین محاصرے میں اور بیرونی دنیا سے مکمل طور پر کٹے ہوئے تھے۔ مگر گورنر کے خطاب کے بعد مستقبل قریب کی خوفناک صورتحال کا بخوبی ادراک کیا جاسکتا ہے۔ اس سے پہلے کشمیر میں گورنر راج کے کئی ادوار میں سرکاری تقریبات میں تقریریں ہمیشہ اردو میں ہوا کرتی تھیں۔

اس سے قطع نظر کہ اس مسند پر بیٹھے زیادہ تر افراد اردو سے نابلد تھے مگر وہ ہندی املا میں اردو پڑھ کر اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے تھے۔

1889ء میں تیسرے ڈوگرہ حکمران، مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے فارسی کی جگہ اردو کو سرکاری زبان قرار دیا۔

اگرچہ فارسی دان اشرافیہ کی جانب سے اس کی بہت مخالفت کی گئی، مزید یہ کہ اردو یہاں کسی بھی علاقے میں مادری زبان کے طور پر نہیں بولی جاتی تھی مگر خطے میں رائج مختلف زبانوں جن میں کشمیری، ڈوگری، پہاڑی، گوجری، شینا، بلتی کے درمیان یہی زبان ایک آسان رابطے کا ذریعہ تھی۔ اس لئے اس زبان کو عوامی سطح پر بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

کشمیر میں اردو زبان و ادب کے معروف اسکالر مرحوم عبدالقادر سروری کےمطابق ’’جموں اور اس کے نواح میں پنجابی، پہاڑی یا ڈوگری جو زبانیں رائج ہیں وہ اردو کی ہمزاد ہیں۔ ان میں صرف لفظی سرمائے کا اشتراک ہی نہیں بلکہ جملوں کی ساخت پر داخت کی مشابہت بھی موجود ہے ۔اسلئے اُردو ان علاقوں میں پہنچتے ہی ابتدائی جان پہچان کے بعد ان کی ہمجولی بننے لگی‘‘۔

مغرب میں مقیم بھارت نژاد اسکالر مریدو رائے کے بقول ڈوگروں کا طرز حکمرانی خالصتاً ہندوانہ تھا جس کی وجہ سے ان کا عمومی رویہ مسلمانوں سے معاندانہ رہا، مگر اردو کے بارے میں وہ کافی فراخ دل ثابت ہوئے اور انھوں نے اس کی ترویج و اشاعت میں کافی دلچسپی لی جو بھارتی عملداری میں بھی پہلے پہل جاری رہی۔

بھارت کے ساتھ متنازعہ الحاق کے مرکزی کردار آنجہانی شیخ عبداللہ نے 1981ء میں ریاست میں ہونے والی پہلی اردو کانفرنس میں اس زبان کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں اپنے خطاب میں بتایا: ’’کوئی بھی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ایک صدی سے اردو ریاست کی تین اکائیوں کشمیر، جموں اور لداخ میں رابطے کی زبان کا کام خوش اسلوبی سے انجام دیتی رہی ہے اور اس زبان میں آئندہ بھی یہ فرض ادا کرنے کی اہلیت ہے، یہی زبان پورے ملک کے ساتھ ہمارے رابطے کی زبان کا کام انجام دیتی ہے۔

اس وقت بھی کشمیر کے ننانوے فیصدی اخبارات اردو میں ہی نکلتے ہیں ۔جن کے قارئین کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے اور اردو اخبار و افکار کی ترسیل کیلئے ریاست میں اب بھی سب سے بڑا ذریعہ ہیں اور تہذیبی اور سماجی سطحوں پر یہی زبان ان اکائیوں کے میل میلاپ کی بنیاد ہے۔

اعتراف کے طور پر یہ بات عرض کرنا برمحل سمجھتا ہوں کہ ریاست کی آزادی کے خدوخال میں اردو کی اہمیت بھی کارفرما ہے۔ کشمیریوں کے لئے یہ بھول جانا ممکن ہی نہیں کہ آزادی کی تحریک میں اس زبان کا ایک زبردست کردار رہا ہے‘‘۔ چند دن پہلے بھارتی حکومت کے ایک اعلامیے کے مطابق اب اردو زبان کو ریاست کی واحد سرکاری زبان کی حیثیت ختم کرتے ہوئے مزید چار زبانوں کشمیری، ڈوگری، ہندی اور انگریزی کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا۔

بظاہر یہ خطے کی دیگر زبانوں کو تسلیم کرنے کی طرف ایک مثبت قدم دکھائی دے رہا ہے مگر کشمیریوں کی غالب اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ اصل مقصد اردو اور اس سے جڑی میراث کو تحلیل کرنا ہے جسے ہندو انتہا پسند خالصتاً مسلم ثقافت کا نمائندہ سمجھتے ہیں۔ اب تو کئی ہندو انتہا پسند یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ کشمیری زبان کا رسم الخط دیوناگری میں تبدیل کردیا جائے، اگر ایسا ہوا تو کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں اپنی تاریخی میراث سے مکمل طور پر نابلد ہوجائیں گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو