مطیع اللہ جان اغواء کیس: ابھی تک کسی محکمے نے جواب نہیں دیا: پولیس رپورٹ

سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغواء پر انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اسلام آباد نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

رپورٹ کے مطابق مقدمے کے اندراج کے بعد وزارت دفاع، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے معاونت کی درخواست کی گئی لیکن پولیس تحقیقات میں ابھی تک کسی محکمے نے جواب نہیں دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جائے وقوع کی جیو فینسنگ رپورٹ ابھی موصول نہیں ہوئی، موبائل کال ڈیٹا کے لیے واقعے کے دن ہی درخواست متعلقہ محکمے کو لکھ دی گئی تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد سیف سٹی کے کیمروں کا ریکارڈ بھی ابھی تک موصول نہیں ہوا، جائے بازیابی سے آنکھوں کی کالی پٹی، ٹیپ برآمد کر لیے گئے، آنکھوں کی پٹی اور منہ پر باندھی گئی ٹیپ کی فرانزک رپورٹ بھی موصول نہیں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق نادرا نے بھی فوٹیج میں موجود اغوا کاروں کی شناخت کے بارے میں جواب نہیں دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی ایس آئی ٹی نے تفتیش کی لیکن اس معاملے پر جے آئی ٹی بنائی جائے گی جب کہ مطیع اللہ جان کے اغواء کے مقدمے میں انسداد دہشتگردی کی دفعہ 7 بھی شامل کر لی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان کی تلاش اور شناخت کے لیے بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تمام اضلاع کی پولیس اور ایف آئی اے کو خط لکھا گیا کہ کیا مطیع اللہ جان انہیں کسی مقدمے میں مطلوب تھے تو تمام اضلاع کی پولیس اور ایف آئی نے جواب میں کہا کہ مطیع اللہ جان مطلوب نہیں۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں صحافی مطیع اللہ جان کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا ہے جس کی سماعت جمعرات 6 اگست کو ہوگی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ کیس کی سماعت کرے گا جس کے لیے اٹارنی جنرل، آئی جی پولیس اور مطیع اللہ جان کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ 21 جولائی کو مسلح افراد نے دن دیہاڑے صحافی مطیع اللہ جان کو اغواء کیا تھا اور 12 گھنٹے بعد اسلام آباد سے 70 کلومیٹر دور فتح جنگ کے علاقے میں چھوڑ آئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو