جبری گمشدگی بادی النظر میں آئین سے انحراف قرار

وفاقی حکومت کے لیے آخری موقع ہے عدالت کو مطمئن کریں جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی نہیں ہے، عدالت

وفاقی حکومت کے لیے آخری موقع ہے عدالت کو مطمئن کریں جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی نہیں ہے، عدالت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے مدثر نارو سمیت پانچ لاپتہ افراد کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے جبری گمشدگی کو بادی النظر میں آئین سے انحراف قرار دے دیا۔

چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے پانچ لاپتہ افراد کے کیسز پر سماعت کی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ تسلیم شدہ ہے کہ ایک چیف ایگزیکٹو نے “ان دا لائن” فائر میں کہا جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی ہے، ریاست کے ایکٹ سے نظر آنا چاہیے کہ جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی نہیں، یہ رائے عامہ کہ آرمڈ فورسز جبری گمشدگی میں ملوث ہیں یہ پبلک پالیسی اور مفاد عامہ کے خلاف ہے ، وفاقی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ آرمڈ فورسز یا کسی بھی سیکورٹی ایجنسی کے جبری گمشدگی میں ملوث ہونے کے تاثر کو ختم کرے ، وفاقی حکومت کے لیے آخری موقع ہے عدالت کو مطمئن کریں جبری گمشدگی ریاست کی پالیسی نہیں ہے، ناکامی کی صورت میں کیوں نا چیف ایگزیکٹوز کے خلاف آئین سے انحراف کے تحت کارروائی کی جائے ؟۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ چار سال ، چھ سال ، دس سال کے لاپتہ افراد کے کیسز اس عدالت کے سامنے ہیں، گزشتہ سماعت پر عدالت کو بتایا گیا کہ کچھ افراد پہلے مسنگ رکھا جاتا ہے پھر کہا جاتا ہے حراست میں ہیں، ایسے لوگوں کو کون Accountible ٹھہرائے گا ؟ وزیراعظم کو یہ معاملہ بھیجا گیا تھا کہ وہ مدثر نارو کی متاثرہ فیملی سے ملیں، عدالت کو توقع تھی کہ وفاقی حکومت لاپتہ افراد کی تلاش کرنے کی کوشش کرے گی ، لیکن وفاقی حکومت کا ردعمل وہ نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھا۔

عدالت نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ پانچ لاپتہ افراد کو پیش کریں ورنہ موجودہ اور سابق وزرائے داخلہ کو طلب کرینگے، سیکرٹری داخلہ بتائیں کیوں نہ موجودہ اور سابق وزرائے اعظم اور وزرائے داخلہ کے خلاف کارروائی کی جائے؟ کیا صدر مملکت اور گورنروں نے جبری گمشدگیوں کی سالانہ رپورٹس جمع کرائیں؟۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔