مردہ کیڑوں کی بو سے مددگار مکھیاں بلانے والا انوکھا پودا

بعض پودے خطرات کے وقت خاص بو خارج کرتے ہیں جو دشمن کیڑوں کا بھگانے یا راغب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اب ایسا ہی ایک پودا دریافت ہوا ہے جو مردہ بھنوروں کی بو خارج کرکے اپنے لیے مددگار مکھیوں کو بلاتا ہے۔

اس سے قبل ہم جان چکے ہیں کہ بعض پودے سڑے گلے گوشت اور فضلے تک کی بو خارج کرتے ہیں تاکہ اسے پسند کرنے والے صفائی پسند کیڑوں کو راغب کیا جاسکے۔ اس سے پودے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اس کے زردانے دور دور تک پھیلتے ہیں اور پھولوں کو فروغ ملتا ہے۔

فی الحال صرف یونان میں پایا جانے والا ایک پودا Aristolochia microstoma ماہرین کی نظر میں آیا ہے جو مردہ بھنورے کی بو خارج کرکے خاص مکھیوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ رنگ برنگی پھولوں والا یہ پودا زمین سے لگ کر اگتا ہے اور اس پر سوکھے پتے پڑے رہتے ہیں۔

یہ اپنی بو سے کوڑے کرکٹ یا غلاظت پر راغب ہونے والی مکھیوں کو متوجہ کرکے اپنے زردانے دور دراز پودوں تک منتقل کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ سائنسداں اس کی بو سے تو واقف تھے لیکن اب جرمنی اور آسٹریا کے ماہرین نے اس میں ایک اور حیرت انگیز بات دریافت کی ہے۔

ماہرین نے بو پیدا کرنے والا ایک سالمہ (مالیکیول) دریافت کیا ہے جو دیگر پودوں میں نہیں ملتا۔ اس مالیکیول کی کیمیائی ترکیب 2,5-dimethylpyrazine ہے۔ ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں میں یہ بو نہیں پائی جاتی بلکہ یہ مردہ بھنوروں کے گلنے سڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔ خاص قسم کی میگیسیلا مکھیاں اس کی جانب راغب ہوتی ہیں جنہیں تابوت پر منڈلانے والی مکھیاں بھی کہا جاتا ہے۔

یہ مکھیاں مردہ بھنوروں کی لاش پر ملاپ کرتی ہیں اور وہیں انڈے دیتی ہیں۔ اب یہ پھول عین بھنوروں جیسی بو خارج کرکے مکھیوں کو راغب کرتے ہیں۔ وہ یہاں سے تازہ زردانے لے کر اسے دوسرے پودے تک پہنچاتی ہیں۔ تاہم دوسرا خیال یہ بھی ہے کہ یہ پودا اور اس کے پھول مکھیوں کو قریبی خوراک کے ذخائر کی نشاندہی میں بھی مدد کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو