متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم کرنے کیلئے معاہدہ

دونوں ممالک کے درمیان سفارتخانہ کھولنے پر اتفاق ہوا ہے، معاہدے پر باضابطہ دستخط آئندہ ہفتوں میں ہوں گے۔

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق اس معاہدے کے بعد یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی اور توانائی شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا.

اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان، اسرائیلی وزیراعظم بینجمِن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آج ایک بڑا کام ہوگیا، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدہ ہوگیا۔
امریکی وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں ملاقات کریں گے۔ دونوں ملک سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی، ٹیلی کام، توانائی، صحت عامہ کے معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارت خانے قائم کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے جائیں گے.

ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید النہیان، اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو کے درمیان معاہدے سے متعلق اتفاق ہوا ہے۔

اماراتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک پہلے ہی کئی شعبوں میں تعاون کر رہے ہیں، جبکہ نئے معاہدے کے بعد فریقین اسرائیل-فلسطین تنازع پر قرارداد کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ایک دوسرے کے سفارت خانے کھولیں گے۔

دونوں ممالک کے وفود آئندہ ہفتوں میں دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق سرمایہ کاری، سیاحت، براہِ راست پروازوں، سیکیورٹی شعبوں میں معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ ٹیلی مواصلات، ٹیکنالوجی، توانائی، صحت، ثقافت، ماحولیات اور دیگر شعبوں سے متعلق معاہدے ہوں گے۔

اس حوالے سے ابوظہبی کے ولی عہد نے کہا کہ ان کی امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ معاہدہ ہوا ہے کہ اسرائیل مزید فسلطینی علاقوں کو ضم نہیں کرے گا۔

ولی عہد ابوظہبی کا کہنا تھا کہ یو اے ای اور اسرائیل نے تعاون اور دوطرفہ تعلقات استوار کرنے کے لیے روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے۔

بعض افسران نے معاہدے کو ’معاہدہِ ابراہم‘ (ابراہم اکارڈ) کا نام دیا گیا ہے جو شروع سے ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفارتی اہداف میں شامل رہا ہے۔ تاہم اس معاہدے پر پہنچنے سے قبل فریقین کےدرمیان طویل مذاکرات اور گفت و شنید جاری تھی۔ اس میں صدر ٹرمپ کے مشیرِ خاص جیرڈ کرشنر، امریکا میں اسرائیلی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمان اور مشرقِ وسطیٰ کے سفیر اوی برکووچ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے.

خیال رہے کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد سے کسی عرب ملک کی جانب سے باضابطہ طور پر یہ تیسرا معاہدہ ہے، اس سے قبل مصر نے 1979ء اور اردن نے 1994ء میں اسرائیل سے امن معاہدہ کیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ کے حریف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اسرائیل کی یہودی آبادکاری کی مخالفت اب بھی کرتا ہوں اور صدر بننے پر بھی کروں گا۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں مزید استحکام کے لیے معاہدہ تاریخی اقدام ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوترس نے بھی متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے.

ترجمان سیکریٹری جنرل انتونیو گوترس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی بڑھانے کے ہر اقدام کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو