ماہ جولائی میں افراط زر بڑھ کر 9.3 فیصد ہو گیا

ماہ جولائی 2020ء میں افراطِ زر کی شرح 9.3 فیصد رہی۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق گذشتہ ماہ اشیاء و خدمات کی اوسط قیمتوں میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا۔ مہنگائی میں اضافے کی وجہ اشیائے خورونوش بالخصوص آٹے اور چینی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا بڑھنا ہے۔

ادارۂ شماریات کے مطابق کچن آئٹمز کے نرخوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ماہانہ بنیادوں پر ٹماٹر کے نرخ دگنے ہو گئے ہیں۔ گذشتہ ماہ کے دوران پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ پٹرولیم مصنوعات، غذائی اشیا اور مشروبات کے نرخ بڑھنے سے افراطِ زر کو پر لگ گئے۔

خیال کیا جارہا ہے کہ اسٹیٹ بینک سخت مانیٹری پایسی کے ذریعے بھی افراطِ زر میں اضافے پر قابو پانے میں ناکام رہے گا۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس اور سیاسی دباؤ کے باعث مرکزی بینک نے شرح سود 13.25 فیصد سے بتدریج کم کرکے 7 فیصد تک گھٹا دیا ہے۔ مرکزی بینک کو توقع ہے کہ رواں مالی سال کے دوران افراطِ زر 8 تا 9 فیصد کے درمیان رہے گا جو حکومت کے مقرر کردہ ہدف 6.5 فیصد سے زیادہ ہے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو