ماحولیاتی آلودگی کے باعث جگنو اور تتلیاں معدومی کا شکار

پاکستان میں بڑھتی ماحولیاتی آلودگی، ٹریفک کے دھوئیں، کیڑے مار ادویات کے استعمال، مصنوعی روشنیوں اور آرائشی پودوں کے رجحان میں اضافے کے سبب تتلیوں اور جگنوؤں کی بقا کو خطرہ ہے اور ان رومان پرور حشرات کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے، پنجاب میں مختلف اقسام کی تتلیوں کی افزائش تو کی جارہی ہیں تاہم جگنوؤں پرتحقیق کا کوئی مرکز موجود نہیں ہے۔

تتلی کی موجودگی کو تبدیلی کی علامت کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تتلی کو جوان محبت، جشن اور پاکیزہ روح یا فرشتے کی علامت کے طور پر بھی کہانیوں، کہاوتوں اور ناولوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تتلی کو زندگی کی خوبصورتی گردانا جاتا ہے جبکہ جگنو روشنی کا استعارہ ہے جو رات کے وقت اپنی روشنی کے ذریعے صاف ماحول کا اشارہ دیتے ہیں لیکن پاکستان میں ان حشرات کی تعداد تیزی سے کم ہوتی جارہی ہے

لاہور کے جلو وٹینیکل گارڈن میں بنائے گائے بٹر فلائی ہاؤس کی نگران اینٹومالوجسٹ نازنین سحر کہتی ہیں ان حشرات کی معدومی کی بڑی وجہ فصلوں پر کیے جانے والے زہریلے اسپرے ہیں، جگنو اور تتلیاں کینچوے، مچھر اورایسے چھوٹے کیڑے کھاتی ہیں لیکن زہریلے اسپرے کی وجہ سے یہ حشرات ختم ہورہے ہیں۔ تاہم جن علاقوں میں زہریلے اسپرے نہیں کیے جاتے وہاں آج بھی تتلیاں رنگ اور جگنو روشنیاں بکھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نیم پہاڑی علاقوں، نہروں اور کھالوں کے قریب، جہاں لاروا مچھر کی بہتات ہوتی ہے، جگنو زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں

لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی میں شعبہ حیاتیات کی سربراہ اور محقق ڈاکٹر فرخندہ منظور کا کہنا ہے تیس چالیس سال پہلے کی نسبت اب تتلیوں اور جگنوؤں ایسے جانداروں کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ ان کے مطابق ایسا اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ مقامی پودے، جن پر تتلیاں پرورش پاتی تھیں، اب کاشت نہیں ہو رہے۔ نمائشی پودوں نے ان کی جگہ لے لی ہے۔ زرعی ادویات کے باعث بھی ان کی پرورش نہیں ہو پاتی ہے۔ ڈاکٹر فرخندہ کا کہنا ہے ان حشرات کی افزائش بڑھانے کے لئے مقامی پودے مثلاً شیشم، کیکر کاشت کیے جائیں۔ زرعی اور کیڑے مار دواؤں کی بجائے حیاتیاتی ایجنٹس کا استعمال کیا جائے

ماہرحیاتیات مواصلاتی سگنلز اور مصنوعی روشنیوں کو بھی جگنوؤں کی معدومی کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں، مادہ جگنو زمین پر رہتی ہے جبکہ نر جگنو فضا میں اڑتے اور روشنیاں بکھیرتے ہیں، جگنو اپنی مادہ سے اظہار محبت اور اپنے ساتھیوں تک کسی بھی خطرے کا پیغام اپنے جسم سے خارج ہونیوالی روشنی کے ذریعے بھیجتے ہیں لیکن اب مصنوعی روشنیوں کی وجہ سے وہ سگنلز نہیں بھیج پاتے ہیں

پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تتلیوں کی افزائش کے لئے بٹر فلائی ہاؤس موجود ہے، جلو بوٹینیکل گارڈن میں جگنوؤں پر تحقیق اور ان کی افزائش کے لئے سنٹر بنانے کا منصوبہ تھا تاہم اس پر کام نہیں ہوسکا ہے.

نازنین سحر کہتی ہیں تلیوں کی ہزاروں اقسام ہیں۔ پنجاب میں ابتک تتلیوں کی 58 اقسام سامنے آچکی ہیں اوران میں سے مقامی اور غیرمقامی 8 اقسام کی تتلیوں کی بٹرفلائی ہاؤس میں بریٖڈنگ کی جارہی ہے۔ تتلیوں کی عمر ایک ہفتے سے ایک سال تک طویل ہوتی ہے۔ تتلیوں کی ہر قسم کا اپنا عرصۂ حیات ہوتا ہے۔ سخت سردیوں میں یا تو یہ مر جاتی ہیں یا پھر سازگار علاقوں کی جانب ہجرت کر جاتی ہیں۔ جن علاقوں میں موسم معتدل ہوتا ہے، وہاں تتلیوں کی زیادہ اقسام افزائش پاتی ہیں۔ تتلیوں کی کچھ اقسام آب وہوا کی مناسبت سے اپنی ظاہری شکل تبدیل کر لیتی ہیں۔ جس کی بدولت تتلیاں موسمی تبدیلوں کا مقابلہ کر پاتی ہیں، بٹرفلائی ہاؤس میں جن تتلیوں کی بریڈنگ کی جاتی ہے ان میں منارچ، پلین ٹائیگر، لٹل ییلو، لیمن، اورنج سلفر، کامن مارمن، یلیو گلاسی ٹائیگر و دیگر اقسام شامل ہیں.

نازنین سحر نے بتایا کہ سردیوں میں کیبیج وائٹ نسل کی تتلیاں زیادہ پرورش پاتی ہیں، چند دیگر اقسام بھی ہیں تاہم ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان تتلیوں کی افزائش کے لئے بٹر فلائی ہاؤس کے اندر مصنوعی طریقے سے درجہ حرارت 28 سے 33 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے۔ بہار کے موسم یعنی مارچ، اپریل اور اس کے بعد اگست سے نومبر کے وسط تک تتلیوں کی افزائش کا موسم ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو