قومی اسمبلی میں گستاخانہ خاکوں کیخلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

قومی اسمبلی میں فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف قرارداد خوب ہنگامہ آرائی اور شور شرابے کے بعد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر حکومت اور اپوزيشن میں اپنی قرارداد لانے پر لفظی جنگ جاری رہی اور ایک دوسرے پر شدید تنقید کی گئی۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کےخلاف حکومتی قرارداد پیش کی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نےکہا کہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں پر آج حکومت کو قرار داد پڑھنے کی جلدی ہے، 7 دن تک اسمبلی کا اجلاس کیوں نہ بلایا گیا؟

مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ دو حرفی بات ہونی چاہے تھی، توہین ہوئی ہے، ہم فرانس سے سفیر واپس بلا رہے ہیں لیکن وزیر خارجہ نے یہاں مقالہ پڑھ دیا ،اس قرارداد میں کوئی قابل عمل بات نہیں ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان سفارتی طور پر تنہا کیوں ہے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ نے پوری اپوزیشن کو غدار قرار دے دیا، جب تک وزیر خارجہ معافی نہیں مانگتے تب تک ایوان نہیں چلے گا، ہم پاکستانی ہیں جو ہمیں غدار کہے گا اس کی زبان کھینچ لیں گے۔

اس دوران ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے احسن اقبال کا مائیک بند کرکے وفاقی وزیر اسد عمر کو دے دیا۔

اس موقع پر اسد عمر کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے پیغمبر ﷺ کی حرمت کو اپنے جذبات پر ترجیح نہیں دے سکتے تو ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس دس منٹ کے لیے ملتوی کردیا۔

وقفے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن اور حکومت کی طرف سے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی تشہیر کے بارے میں مشاورت سے تیار کیا گیا قرارداد کا مسودہ پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔

قرارداد میں حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کے حوالے سے فرانس میں خاکوں کی تشہیر کی سختی سے مذمت کی گئی، قرارداد میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کا ایوان فرانسیسی صدر میکرون اور دیگر یورپی رہنماؤں کی طرف سے اسلام اور اسلاموفوبیا کے حوالے سے اشتعال انگیز بیانات پر سخت تشویش ظاہر کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ مذہب کے نام پر ہر طرح کے دہشت گردانہ اور انتہا پسندانہ اقدامات کی سختی سے مذمت کی جاتی ہے، فرانس ناروے اور سویڈن میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پوری امت مسلمہ کے جذبات کو بری طرح مجروح کیا گیا ہے، ایسے واقعات شدت پسندی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں، فرانس میں مسلم خواتین کے حجاب پر پابندی اور یورپی ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی بھی سختی سے مذمت کی جاتی ہے۔

قرارداد میں زور دیا گیا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) 15 مارچ کو اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے دن کے طور پہ منائے جب کہ تمام اسلامی ممالک فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

قبل ازیں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) میں بھی فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذمتی قراداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

سینیٹ میں قرارداد قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے پیش کی جس میں فرانس میں حکومتی سرپرستی میں خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان کی شدید مذمت کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات جب حکومتی سرپرستی میں ہوں تو مذاہب میں تقسیم پیدا ہوتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو