غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کیلیے سالانہ اربوں ڈالر درکار

پاکستان کو غیرملکی قرضے چکانے کیلیے 10 ارب ڈالر سالانہ سے زائد کی ضرورت ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر اقتصادی امور عمر ایوب اور وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے گزشتہ روز یہاں اپنی اپنی وزارتوں کے وفود کے ساتھ آپس میں ملاقات کی اور قرضوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

وزارت اقتصادی امور نے وزارت خزانہ کوبتایا کہ سالانہ 10ارب ڈالر یو اے ای اور چین سے ڈیپازٹس کی شکل میں لئے گئے قرصوں سے ہٹ کر دیگر غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے لئے درکار ہونگے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو 2 ارب ڈالر اور چین نے 4 ارب ڈالر دے رکھے ہیں اور ان کی ادائیگی موخر ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں وزارتوں کے اجلاس میں تجویز دی گئی کہ حکومت کو آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کو اپنے حق میں رکھنا ہوگا۔ رواں مالی سال کے دوران 14.4 ارب ڈالر کے قرضوں کے مقابلے میں ادائیگیاں تقریباً 12 ارب ڈالر کی ہوں گی۔ اڑھائی ارب ڈالر کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ بجلی قیمتوں میں اضافے سمیت بعض شرائط پوری نہ ہونے کی وجہ سے عالمی بینک سے 1.5ارب ڈالر قرضے کا حصول مشکل ہو رہا ہے۔

اس حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین نے عالمی بینک کے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ برآمدات اور براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کم ہونے کی وجہ سے مزید قرضے لینے کے سوا مسئلے کا کوئی فوری حل موجود نہیں ہے۔ حکومت نے رواں مال سال میں جولائی سے مارچ تک کے عرصے میں 10.4 ارب ڈالر کے قرضے لئے ہیں اس میں 2.5 ارب ڈالر کے یورو بانڈز بھی شامل ہیں۔

عالمی بینک سے متوقع 2.3 ارب ڈالر سالانہ کے برعکس صرف938 ملین ڈالر ملے ہیں۔ رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی (اپریل تا جون) میں پاکستان کو 3.8 ارب ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ آئے گا۔

ذرائع کے مطابق خصوصی اقتصادی زونز کی شکل میں چینی سرمایہ کاری بھی ابھی تک نہیں آسکی کیونکہ حکومت ابھی تک مراعاتی پیکج کو حتمی شکل نہیں دے سکی۔ چین انڈسٹریل فریم ورک ایگریمنٹ پر دستخط کرنے میں بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو