چین میں آئسولیشن کی خلاف ورزی کرنیوالے نے 5000 سے زائد افراد کو قرنطینہ میں بھیج دیا

چین اپنی کووڈ کے حوالے عدم برداشت کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے

چین اپنی کووڈ کے حوالے عدم برداشت کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے

بیجنگ: چین میں ایک شخص نے قرنطینہ سے فرار اختیار کر کے حکام کو 5000 افراد کو اپنے گھر یا حکومتی قرنطینہ میں بھیجنے پر مجبور کردیا۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں قرنطینہ کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے شخص کو فوجداری تحقیقات کا سامنا ہے۔ مذکورہ شخص کی جانب سے یہ حرکت ایسے موقع پر کی گئی جب بیجنگ اور شینگھائی میں کووڈ کے تحت نافذ کی گئی پابندیوں میں نرمی آنا شروع ہوئی تھی۔

پیر کے روز حکام کا کہنا تھا کہ مذکورہ شخص کو 23 مئی کو ایک ممکنہ طور پر کووڈ سے متاثرہ شاپنگ پلازہ میں جانے کے بعد گھرمیں قرنطینہ کرنے کا کہا گیا تھا۔

حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ شخص کورونا مثبت آنے سے قبل قرنطینہ کے دورانیے میں کئی بار گھر سے باہر نکلا اور علاقے میں گھوما پھرا اور لوگوں کو وباء کے خطرے سے دوچار کیا۔

نتیجتاً حکام نے مذکورہ شخص کی عمارت میں رہنے والے 258 افراد کو حکومتی قرنطینہ مرکز میں جانے کا کہا اور 5000 سے زائد دیگر افراد، جو اس شخص کی کمیونیٹی میں رہتے تھے، کوگھر میں قرنطینہ کرنے کے لیے کہا۔

چین کی جانب سے تیزی سے پھیلنے والے کووڈ-19 کے اومیکرون ویریئنٹ کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے اپنی رعایا پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔

چین کی کووڈ کے حوالے سے عدم برداشت کی پالیسی معیشت اور لوگوں پر منفی اثرات مرتب کرنے کی وجہ سے کڑی تنقید کی زد میں بھی رہی۔ لیکن چینی صدر شی جن پنگ نے مزید سختی سے پالیسی پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی۔

حکومت کی جانب سے سخت پابندیوں کے سبب چینی عوام میں سخت ناراضی سامنے آئی لیکن انفیکشنز کی کم ہوتی تعداد کے ساتھ پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے۔

بیجنگ میں مجرمانہ عمل کا ارتکاب کرنے والے اس شخص کو لوگ آن لائن کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔