عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کی پاکستانی ترسیلات زر میں 12 فیصد کمی کی پیشگوئی

کورونا کی وجہ سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ملازمتوں سے محروم ہونے کے تناظر میں عالمی ریٹنگ ایجنسی فچ کی جانب سے پاکستان کی ترسیلات زر میں ممکنہ طور پر 12 فیصد کی کمی اور کریڈٹ ریٹنگ متاثر ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

ریٹنگ ایجنسی فچ کے مطابق بیرون ملک مقیم کارکنان کی جانب سے ترسیلات زر میں ممکنہ کمی اور اس کے نتیجے میں 2020 کے دوسرے نصف میں بیرونی فنانسنگ کی زیادہ ضرورت کریڈٹ ریٹنگ پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

فچ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جون اور جولائی میں زیادہ بلند ترین ترسیلات زرکی وجہ عارضی عوامل تھے۔ کووڈ 19 کی وجہ سے بیرون ممالک میں بے شمار لوگوں کے ملازمتوں سے محروم ہونے ، آمدن میں کمی اور تیل کے نرخوں کے عالمی بحران کی وجہ سے ترسیلاتِ زر میں کمی متوقع ہے۔

فچ کے تخمینے کے مطابق پاکستان کے علاوہ بنگلادیش، سری لنکا، بھارت اور فلپائن کی بیرون ملک سے ترسیلاتِ زر میں اوسطاً سالانہ 12 فیصد کی شرح سے کمی واقع ہوگی۔ یہ تخمینہ ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تخمینے سے 8فیصد کم ہے۔

خام تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں جیسے عوامل پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی سرگرمیوں پر بدھ کو اثرانداز رہیں جس کی وجہ سے تمام دورانیے میں اتارچڑھاو کے کاروبارملے جلے رحجان سے دوچار رہی تاہم 53 اشاریہ 25 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں اور حصص کی مالیت میں بھی 16 ارب 98 کروڑ 74 لاکھ 7 ہزار 957 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

کاروباری دورانیئے میں ایک موقع پر 212 پوائنٹس کی تیزی اور بعد ازاں 367 پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے محدود پیمانے پر تیزی ہوئی جس کے نتیجے میں کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس 37 اشاریہ 06 پوائنٹس کے اضافے سے 42022 اشاریہ 25 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

اس کے برعکس کے ایس ای 30 انڈیکس 14 اشاریہ 63 پوائنٹس کی کمی سے 17825 اشاریہ01، کے ایم آئی 30 انڈیکس 312 اشاریہ 86 پوائنٹس کی کمی سے 67416 اشاریہ 27 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس 48 اشاریہ 99 پوائنٹس کی کمی سے 21015 اشاریہ51 پوائنٹس پر بند ہوا۔

کاروباری حجم منگل کی نسبت 20 اشاریہ 05 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر 70 کروڑ 70 لاکھ 13 ہزار 27 حصص کے سودے ہوئے جب کہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 430 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 229 کے بھاؤ میں اضافہ 183 کے داموں میں کمی اور 18 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، ان میں نیسلے پاکستان کے بھاؤ 83 روپے 70 پیسے بڑھ کر 6582 روپے اور آئس لینڈ ٹیکسٹائل کے بھاؤ 67 روپے 79 پیسے بڑھ کر 1030 روپے ہوگئے جب کہ یونی لیور فوڈز کے بھاؤ 359 روپے گھٹ کر 12500 روپے اور کولگیٹ پامولیو کے بھاؤ 54 روپے57 پیسے سے گھٹ کر 3409 روپے ہوگئے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو