سندھ کا ’’ سٹیزن بجٹ‘‘ پیش کرنے کا منصوبہ، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے ’سٹیزن بجٹ ‘22-2021 پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کیلیے انھوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت شروع کردی ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس میں اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہوں نے ’سٹیزن بجٹ ‘22-2021 پیش کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کیلیے انھوں نے صنعتکاروں، تاجروں اور ماہرین زراعت سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت شروع کردی ہے۔

اجلاس میں چیف سکریٹری سندھ ممتاز شاہ ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی محمد وسیم، متعلقہ سیکرٹریز، صدر کے سی سی آئی شارق وہرہ، صدر حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریز سلیم قریشی و دیگر نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اسٹیک ہولڈرز کو بتایا کہ صوبائی حکومت کو رواں مالی سال کے دوران 967.5 ارب روپے وصول کرنے کی توقع تھی اور صوبائی حکومت کو اپنے وسائل میں سے 228 ارب روپے ملیں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کے پاس کل 1.19 ٹریلین روپے کی بجٹ رقم ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کل بجٹ میں سے 81 فیصد غیرترقیاتی اور 19 فیصد ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ 81 فیصد غیرترقیاتی بجٹ میں تعلیم پر 20 فیصد، محکمہ خزانہ 19 فیصد، صحت پر 14 فیصد، داخلہ (امن و امان اور انصاف) پر 12 فیصد، لوکل گورنمنٹ پر 9 فیصد، آبپاشی پر 3 فیصد اور 23 دیگر محکموں کا بجٹ ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے مشترکہ ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا جائے گا اور انشاء ﷲ اس منصوبے پر آئندہ سال کام شروع کردیا جائے گا۔ سائٹ ایسوسی ایشن نے مشورہ دیا کہ سائٹ کے علاقے میں نکاسی آب کے نظام، اوور ہالنگ کے ساتھ سڑکیں ضرور بنوائیں۔ اس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صنعتکاروں کی تجویز پر سائٹ کی 17 سڑکوں کو چوڑا کرنے کیلیے منتخب کیا گیا ہے اور اگلے مالی سال کے آغاز میں سائٹ میں کام ہوگا۔

زرعی ماہرین نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ صوبہ سندھ میں پیاز کی بمپر فصل کی کاشت ہوئی ہے۔ وفاقی حکومت نے پیاز کی برآمد کے بجائے پیاز کی درآمد جاری رکھی ہوئی ہے، اس کے نتیجے میں سبزی منڈیوں میں پیاز کی قیمت 5 روپے فی کلو گر گئی۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ یہاں کسانوں کیلیے کسان دوست پالیسیاں ہونی چاہئیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو