سماجی مدد سے نفسیاتی اور دماغی امراض میں کمی ہوسکتی ہے

اہلِ خانہ، دوست اور سماج مل کر بالغان کی مدد اور حوصلہ افزائی کریں تو اس سے دماغی ونفسیاتی امراض کی شرح کم ہوسکتی ہے۔

یہ تحقیق امریکی جرنل آف امریکن آف میڈیکل ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی ہے۔ اس پرتحقیق کرنے والوں میں میری کلاؤڈے جیفری سرِ فہرست ہیں جو مِک گِل یونیورسٹی میں نفسیاتی کاؤنسلنگ اور اس سے وابستہ تعلیم کے ماہر ہیں۔ ان کی تحقیق بتاتی ہے کہ دوست اور اہلِ خانہ کا ساتھ رہے تو اول انسان نفسیاتی عوارض سے دور رہتا ہے جن میں ڈپریشن، گھبراہٹ، خودکشی کے خیالات اور خودکشی کی کوشش کرنا سرفہرست ہے۔ پھر دوست اور اہلِ خانہ ہی ان کیفیات کو دور کرنے میں غیرمعمولی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر مکمل صحت مند بالغ افراد کو ماضی میں بہت حوصلہ اور مدد ملتی رہی ہے تو اس کے اثرات بہت برس تک برقرار رہتے ہیں۔ دوسری جانب خاندان، دوست اور سماج کی تائید و مدد 18 سے 20 سال کے لڑکے اور لڑکیوں کی بہت مدد کرسکتے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں نوجوان حساس ہوجاتے ہیں اور ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں۔ یہ سماجی حفاظت ڈپریشن اور یاسیت کے علاوہ دیگر کئی امراض سے بھی محفوظ رکھتی ہے۔

اس تحقیق میں 1000 ایسے افراد شریک ہوئے جو 1997ء سے 1998ء کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔ ایک طویل سوالنامے کے ذریعے ان میں سماجی مدد اور اہلِ خانہ کے تعاون اور اشتراک کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو بچے والدین اور بہن بھائیوں سے قریب رہے ان میں ڈپریشن کا خدشہ 47 فیصد اور اینزائٹی کا خطرہ 22 فیصد تک کم دیکھا گیا۔ اسی طرح خودکشی کے خطرات میں 40 فیصد کمی دیکھی گئی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو