سانپ سیڑھی کا یہ کھیل بچوں کے پیٹ کے کیڑے کم کرسکتا ہے!

بچے کھیل کھیل میں بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں اور اب ’سانپ سیڑھی‘ کی طرز پر ’کیڑے اور سیڑھی‘ نامی بورڈ گیم بنایا گیا ہے جو بچوں کی آنتوں میں انفیکشن اور نتیجتاً پیٹ کے کیڑوں کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔

یہ گیم بالخصوص دیہی ماحول میں رہنے والے بچوں کو صحت و صفائی کے اصول سکھاتا ہے اور سب سے پہلے نائیجیریا کے بچوں پر آزمایا گیا ہے۔ اس کھیل کی بدولت واضح فائدہ دیکھا گیا۔

نائیجیریا میں فیڈرل یونیورسٹی آف ایگریکلچر سے وابستہ طفیلیوں (پیراسائٹولوجی) کےماہر ڈاکٹر اویم ایکپو نے کہا کہ بالخصوص افریقی بچے دیہی ماحول میں کھیلتے ہیں اور وہاں مٹی میں موجود کیڑوں کے انڈے کسی طرح بچوں کی آنتوں میں پہنچ جاتے ہیں جسے ہیمنتھس کہتے ہیں۔

’ہم نے چھ ماہ تک بچوں کو یہ ’کیڑے اور سیڑھی‘ کا گیم کھلایا اور نوٹ کیا کہ بچوں میں پیٹ کے کیڑوں کی شرح 25 سے 5.6 فیصد پر آگئی،‘ ڈاکٹر اویم نے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اس گیم میں جگہ جگہ تصاویر اور معلومات لکھی ہیں جو بچوں کو حفظانِ صحت کے اصولوں سے آگاہ کرتی ہیں۔

ماہرین نے اس اہم کام کی تفصیلات پبلک لائبریری آف سائنس ( پی ایل او ایس) میں شائع اس رپورٹ میں چھ اسکولوں کے منتخب بچوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو کیڑے اور سیڑھی کھلایا گیا اور دوسرے کو عام سانپ سیڑھی (اسنیکس اینڈ لیڈرز) کھیلنے کو دیا گیا۔

استاد کی مدد سے بچوں کو کھیل کھیل میں صفائی کے اصول اور کیڑوں کے انفیکشن کے بارے میں بتایا گیا۔ اس کے نتیجے میں بچوں میں مٹی سے آنتوں تک جانے والے پیٹ کے کدودانوں سے بچاؤ کا شعور پیدا ہوا۔ پورے چھ ماہ کے دوران بچوں کی 98 فیصد تعداد نے کسی نہ کسی طرح پیٹ کے کیڑوں سے بچاؤ کا ایک طریقہ معلوم کرلیا جبکہ صرف سادہ سانپ سیڑھی کھیلنے والے بچوں کی سات فیصد تعداد ہی اس درجے پر پہنچی۔

واضح رہے کہ پیٹ کے کیڑے ننگے پیر چلنے سے بھی پروان چڑھتے ہیں اور ان کے باریک انڈے کسی طرح مٹی سے ہوتے ہوئے جلد میں اترتے ہیں اور وہاں سے آنتوں تک پہنچتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت کے مطابق دنیا بھر میں گیلی زمین اور کیڑوں کی آماجگاہ پر رہنے والے بچوں کی تعداد 60 کروڑ ہے جن کی 24 فیصد تعداد پیٹ کے کیڑوں کی شکار ہوتی ہے جن میں افریقہ سرِ فہرست ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو