‘ساری تحقیقات میڈیا پر ہی ہو رہی ہے‘

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا ہے کہ موٹر وے زیادتی کیس کی ساری تحقیقات میڈیا پر ہی ہو رہی ہے۔

سانحہ تیز گام ایکسپریس کی تحقیقات کے لیے دائر درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیر ریلوے کا حادثے پر جو کنڈکٹ رہا اُس پر انہیں استعفیٰ دینا چاہیے تھا جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر کنڈکٹ پر استعفیٰ دینا پڑا تو اس وقت سارے وزراء کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ استعفیٰ ہمیشہ اخلاقی بنیادوں پر دیا جاتا ہے اور پاکستان میں ابھی اخلاقیات اس سطح تک نہیں پہنچیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ سانحہ موٹر وے کی بھی ساری تحقیقات میڈیا میں ہی ہو رہی ہے، پورا پاکستان ہی اس معاملے پر تفتیشی افسر بنا ہوا ہے۔

ریلوے کے وکیل نے کہا کہ سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 15، 15 لاکھ معاوضہ ادا کیا گیا ہے، کوئی ایسا زخمی موجود نہیں جس کو معاوضہ فراہم نہ کیا گیا ہو۔

وکیل ریلوے نے کہا کہ 7، 8 لوگوں کی تصدیق نہیں ہو پا رہی، تصدیق ہونے پر انہیں بھی ادائیگی کر دیں گے۔

درخواست گزار وکیل نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ایسے اقدامات کیے جائیں کہ ایسا سانحہ دوبارہ نہ ہوں۔

جسٹس محسن اختر نے کہا کہ وزارت داخلہ، پولیس اور ریلوے اپنی اپنی انکوائری کر رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

خیال رہے کہ رواں برس جنوری میں کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس میں رحیم یار خان کے قریب آتشزدگی کا واقعہ رونما ہوا تھا جس کے نتیجے میں 75 سے زائد افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو