سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کی سی سی پی او سے اختلافات کی وجہ

انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس پنجاب کے عہدے سے ہٹائے جانے والے شعیب دستگیر کا کہنا ہے کہ کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) عمرشیخ نے کمانڈ کے خلاف بات کرکے رولز کی خلاف ورزی کی تھی۔

اپنے بیان میں شعیب دستگیر نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تھا، سی سی پی اوکے خلاف کارکردگی اورنظم وضبط کے قانون کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تھی، معاملہ سی سی پی او کی تعیناتی کا نہیں، صرف نظم و ضبط کی خلاف ورزی کا ہے۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد شعیب دستگیر کو آئی جی پنجاب کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور انعام غنی کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا ہے۔

شعیب دستگیر کو سیکرٹری نارکوٹکس کنٹرول ڈویژن تعینات کردیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب کی تبدیلی سے پہلے آئی جی اور سی سی پی او لاہور میں اختلاف سامنے آئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی پی او نے افسران کو ہدایت کی تھی کہ آئی جی کی ہدایات پہلے اُن کے علم لائی جائیں پھر عمل کیا جائے۔

یاد رہے کہ 2 سال میں پنجاب کے 5 آئی جی تبدیل ہوچکے ہیں جن میں کلیم امام، محمد طاہر، امجد سلیمی، عارف نواز اور شعیب دستگیر شامل ہیں۔

امجد جاوید سلیمی 6 ماہ اور کلیم امام 3 ماہ آئی جی پنجاب رہے، کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز خان 7 ماہ آئی جی پنجاب رہے جبکہ محمد طاہر ایک ماہ کے لیے آئی جی پنجاب رہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو