زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی دی جائے گی، قانون تیار کررہے ہیں، فیصل جاوید

سینیٹ میں قائد ایوان ڈاکٹر وسیم شہزاد نے کہاہے کہ حکومت جنسی زیادتی کو روکنے کیلئے ایک قانون لانا چاہ رہی ہے، ہمیں اچھے پولیس افسران کی مدد چاہیے نہ کہ راؤ انوار اور عابد باکسر جیسے افسران کی۔

تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ زیادتی کرنے والے کو سرعام پھانسی کی سزا دے کر عبرت کا نشانہ بنایا جائے گا، اس حوالے سے ایک بل بھی تیار کررہے ہیں۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ جو بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں وہ انسان نہیں، وحشی درندے ہیں، وزیر اعظم نے اس حوالے سے قانون سازی کی ہدایت کی ہے، زیادتی کا شکار افراد کے کیسز رپورٹ کرنے کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بچوں سے زیادتی کے واقعات بڑھ رہے ہیں کیونکہ لوگوں میں خوف نہیں، بعض وزراء اور ارکان پارلیمان انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں لیکن حقوق انسانوں کے ہوتے ہیں، جو بچوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں وہ انسان نہیں، وحشی درندے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسا قانون تیار کررہے ہیں جس کے تحت ریپسٹ کو نامرد بنایا جائے گا، ریپسٹ کا ڈیٹا بینک بنایا جایے گا۔

ن لیگ سینیٹر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جنسی زیادتی کے معاملے پر پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے، پاکستان بار کونسل میں وکلاء نے کہا کہ ججز کی تقرری کے طریقہ کار پر غور کرنا چاہیے، ججز تقرری کی پارلیمانی کمیٹی کو میں نے، رضا ربانی، اعتزا احسن، نعمان وزیر نے چھوڑا تھا، سمجھا کہ یہ بیکار کمیٹی ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور سیالکوٹ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ ہونے کے بعد سے یہ بحث ہورہی ہے کہ آیا جنسی زیادتی کے مجرموں کو سزائے موت دی جانی چاہیے یا نہیں۔

وزیراعظم عمران خان ایک انٹرویو میں جنسی زیادتی کے مجرم کو نامرد کرنے کی تجویز دے چکے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو