زندہ اینٹینا والا ’اسمیلی کاپٹر‘

اس عجیب ہیلی کاپٹر کی بجائے ’اسمیلی(بو) کاپٹر‘ کا نام دیا ہے جو بھڑوں (موتھ) کے زندہ اینٹینا سے اپنا کام کرتا ہے۔ یہ پرواز کے دوران رکاوٹوں سے بچنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اگرچہ ڈرون اور چھوٹے روبوٹ حادثات اور سانحات کے بعد دشوارگزار جگہوں تک پہنچ سکتے ہیں لیکن اب یہ ڈرون وہاں پر زہریلے مواد، گیس وغیرہ اور انسانوں کی بو بھی سونگھ سکتا ہے۔ لیکن کسی بو یا خوشبو سونگنے والے جدید ترین سینسر بھی بہت بہتر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ نہ یہ بہت حساس ہوتے ہیں اور نہ ہی بہت تیزی سے بو شناخت کرسکتے ہیں۔ بالخصوص پرواز کے دوران تو ان کی یہ صلاحیت بالکل ماند پڑجاتی ہے۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کی میلنی اینڈرسن نے اس مسئلے کا انقلابی حل پیش کیا ہے جس میں بھڑ کے وہ تنکے نما اینٹٰینا استعمال کئے گئے ہیں جن سے وہ بو محسوس کرتی ہے جبکہ اس سے برقی نظام فائدہ اٹھاتا ہے۔ یوں ایک زندہ شے کی حساسیت اور روبوٹ کی تیزی دونوں کو ایک مقام پر سمودیا گیا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ بِھڑیں اپنے حساس اینٹینا سے ماحول میں کیمیکل معلوم کرتی ہیں اور اپنے ساتھی یا غذا کی تلاش میں اڑتی پھرتی ہے۔ قدرتی طور پر جس بو کا کیمیکل ہوتا ہے بھڑ کے اینٹینا کے خلیات اسے مزید طاقتور بنادیتے ہیں۔ یہ عمل بڑی تیزی سے اور بہت مؤثر انداز میں ہوتا ہے۔

اس کے لیے ’مینڈیوسا سیکسٹا ہاک موتھ‘ کے اینٹینا کا انتخاب کیا گیا۔ ماہرین نے بھڑوں کو بے ہوش کیا اور ان کے اینٹینا نکالے کیونکہ وہ چار گھنٹے تک زندہ رہتے ہیں جسے مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد اینٹٰینا سے باریک تار جوڑا گیا اور اسے برقی سرکٹ سے جوڑا گیا اور اس کے سگنل برقی نظام تک پہنچنے لگے۔ بعد ازاں مختلف بو سے بھری ایک ہوائی سرنگ میں سے ڈرون کو اڑایا گیا۔ سرنگ میں پروفیوم اور ایتھانول کی بخارات اڑائے گئے جنہیں ڈرون کے سینسر نے فوری طور پر محسوس کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عمل میں عام کواڈکاپٹر استعمال کیا گیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو