’رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر کے لائحہ عمل اتفاق ہو گیا‘

اگر حکومت یہ محسوس کرے کہ تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا تو دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں فیصلوں پر نظر ثانی کرے گی: صدر مملکت

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ اتفاق رائے سے رمضان المبارک کیلئے احتیاطی تدابیر کا لائحہ عمل طے ہوگیا ہے۔

صدر مملکت نے ویڈیو لنک کے ذریعے ملک بھر سے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔

انہوں نے کہا کہ ضروری تھا ملک بھر سے علماء کے مشورے آ جائیں. اجلاس میں رمضان المبارک کے حوالے سے 20 نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے، اب یہ ذمہ داری صرف آئمہ یا حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرے۔

صدر عارف علوی نے بتایا کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں دریاں یا قالین نہیں بچھائے جائیں گے، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی، مسجد کے فرش کو صاف کرنے کے لیے کلورین کا استعمال ہو گا اور نمازیوں کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مساجد کے احاطے کے اندر نماز تراویح کا اہتمام کیا جائے، جہاں مسجد میں صحن ہے وہاں صحن میں نماز پڑھی جائے، سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر نماز تراویح پڑھنے سے اجتناب کریں، نماز سے پہلے اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ مساجد اور امام بارگاہوں میں ماسک پہن کر آئیں، مصافحہ نہ کریں اور گلے نہ ملیں، مسجد کے اندر چہرے پر ہاتھ نہ لگائیں، موجودہ صورتحال میں بہتر ہے کہ گھروں میں تراویح پڑھیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے بتایا کہ مسجد میں نماز کے لیے کھڑے ہونے کے لیے نشان لگا لیا جائے، وضو گھر سے ہی کرکے مسجد میں جایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسجد میں افطار و سحر میں اجتماعی افطار کا انتظام نہ کیا جائے، مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ کی ان حفاظتی تدابیر کے ساتھ تراویح اور نماز جمعہ و عبادات کا اہتمام کرنے کی اجازت ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا یا متاثرین کی تعداد برھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں فیصلوں پر نظر ثانی کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ علاقوں میں وہاں کے احکامات اور پالیسی کو بدل دیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو