ذیابیطس کے مریض پھل اور سبزیاں کھائیں، ورزش بھی کریں

سر سید کالج آف میڈیکل سائنسز کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ نے کہا ہے کہ ذیابطیس کا مرض ایک خاموش قاتل ہے، ہمارے ملک میں ذیابیطس پر قابو نہ پانے کی اہم وجہ عوام میں مرض کے حوالے سے شعور نہ ہونا ہے، ذیابیطس کے مرض پر قابو پانے کے لیے نرسز کو ایجوکیٹ کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کو پرائمری اور سیکنڈری اسپتالوں میں ڈائبیٹک کلینک قائم کرنے کی ضرورت ہے، صحتمند زندگی گزارنے کے لیے روزانہ ورزش، متوازن غذا کا استعمال اور 30 منٹ کی واک انتہائی ضروری ہے۔

کراچی کے مقامی ہوٹل میں سر سید کالج آف میڈیکل سائنسز کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ کے زیر اہتمام اور فارم ایو پرائیوٹ لمیٹڈ، میکٹر فارما، ہائینون لیبارٹریز لمیٹڈ، بیرٹ ہاڈسن پاکستان، ایلی للی اینڈ کمپنی، لْنڈبیک فارما سیوٹیکلز، اسکوٹمین فارماسیوٹیکلز، نووو نورڈسک پاکستان اور سروئیر پاکستان کے اشتراک سے ذیابیطس کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار میں مہمان خصوصی سیکریٹری صحت سندھ ڈاکٹر کاظم حسین جتوئی اور اعزازی مہمان مسز افضال معین تھے جبکہ دیگر مقررین میں پروفیسر زمان شیخ، پروفیسر عبدالباسط، پروفیسر بیکھا رام دیوراجانی، پروفیسر شبین ناز مسعود، پروفیسر اعجاز وہرہ، پروفیسر مشہور عالم شاہ، پروفیسر فیروز میمن، پروفیسر محمد اسحاق، ڈاکٹر شہلا نسیم، ڈاکٹر خالد خلیل، ڈاکٹر نیاز بروہی، مس فرزانہ تبسم نے شرکت کی، ڈاکٹر فرح ناز اور ڈاکٹر فضا ناز نے موڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔

اس موقع پر ڈاکٹر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ سیمینار ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے منعقد کیا ہے، کم مہمانوں کو مدعو کیا گیا ہے، 8.5 ملین عوام کو ملک میں پتا ہی نہیں ہے کہ انکو شوگر ہے، ڈاکٹرز اور نرسز کو بھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے، آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے یہاں ڈاکٹرز مریضوں کو انسولین دیتے ہوئے گھبراتے ہیں۔

پروفیسر زمان شیخ کا کہنا تھا کہ شوگر کے مریضوں کو ڈپریشن 24 فیصد ہوتا ہے، اگر شوگر کے ساتھ ڈپریشن ہوجائے تو ایسے مریضوں کی 54 فیصد اموات ہوجاتی ہیں، موٹاپے کا خاص خیال رکھیں اور ذیابیطس کے مریض اپنی شوگر روزانہ چیک کریں۔

ڈاکٹر کاظم حیسن جتوئی کا کہنا تھا کہ پرائمری اور سیکنڈری کیئر اسپتالوں میں ڈائبیٹک کاؤنٹر بنانے سے مریضوں کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی، ہم اسے اپنی پالیسی میں شامل کریں گے، ایس او پیز پر عمل کرکے ہم کورونا کا خاتمہ یقینی بناسکتے ہیں، اس وقت کورونا سے بچنے کی ویکسین فیس ماسک ہے۔

پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ نرسز کو 4 ماہ کا بیس لائن ڈائبٹیس کا کورس کروانے کی ضرورت ہے، سندھ میں ہر دیہی علاقوں میں بیسک ہیلتھ کئیر یونٹس بنانے کی ضرورت ہے۔

پروفیسر محمد اسحاق کا کہنا تھا کہ ذیابیطس اور دل کے امراض میں گہرا تعلق ہے، ذیابیطس کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک کے چانسز 4 گنا بڑھ جاتے ہیں۔

پروفیسر اعجاز وہرہ کا کہنا تھا کہ ذیابیطس آپ کے تمام اعضا کو متاثر کردیتا ہے، ذیابیطس کی دوسری قسم قابل علاج ہے، نرسز کا ہمارے معاشرے میں بہت اہم کردار ہوتا ہے۔

پروفیسر بیکھا رام کا کہنا تھا کہ ٹریننگ ڈاکٹرز سے زیادہ ہمیں ڈائیبیٹک ایجوکیٹر کی ضرورت ہے، کھانا کھانے کے بعد فوری ورزش کریں تو موٹاپا کنٹرول ہوسکتا ہے، آج جو کووڈ کے لوگ مر رہے ہیں اس کی ایک وجہ موٹاپا بھی ہے۔

ڈاکٹر شبین ناز کاکہنا تھا کہ کچھ خواتین کو حمل کے دوران ذیابیطس ہوجاتا ہے ، دوران حمل کھانا کھانے کے دو گھنٹے بعد بلڈ شوگر ٹیسٹ کرنا چاہیے۔

پروفیسر مشہور عالم کا کہنا تھا کہ ذیابیطس میں ورزش کرنا انتہائی ضروری ہے، ہفتے میں چار دن سبزی کھائیں اور کھانوں میں تیل کا استعمال کم کریں۔

ڈاکٹر نیاز بروہی کا کہنا تھا کہ شوگر کے مریضوں میں موتیا اور کالا پانی جلدی آجاتا ہے، ذیابیطس کے مریض اگر نمک کا استعمال کم کریں تو اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ڈاکٹر شہلا نسیم کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے مریضوں کو کوشش کرنی چاہیے کہ ان کے پیروں پر کوئی زخم نہ ہو، ڈاکٹر خالد خلیل کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے مریض روزانہ 30 منٹ کم از کم واک ضرور کریں، اپنی فزیکل ایکٹوٹیز بڑھا دیں۔

نرس فرحانہ تبسم کا کہنا تھا کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ نرسز آگے بڑھیں تو ہمیں ایجوکیشن کی طرف جانا ہوگا، نرسز کے تربیت یافتہ اور تعلیم یافتہ ہونے سے ہمارے ڈاکٹرز پر جو مریضوں کا بوجھ ہے وہ کم ہوجائے گا۔

سیمینار میں پروفیسر اختر حیسن، مسز افضال معین، پروفیسر احمد بلال اور پروفیسر فیروز میمن کا وڈیو پیغام بھی دکھایا گیا جس میں انھوں نے روزانہ ورزش کرنے، کم کھانے اور ذیابیطس پر قابو رکھنے کی اہیمت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر بذات خود دل کی بیماریوں کی ابتدا ہے، ذیابیطس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں، 30 منٹ کی واک ضرور کریں اور ورزش روزانہ کریں۔

پروفیسر احمد بلال کا کہنا تھا کہ ہمیں چاہیئے کہ ہم ناشتہ زیادہ کریں، دوپہر کا کھانا اس سے کم کھائیں اور رات کا کھانا سب سے کم کھائیں، روغنی کھانوں سے پرہیز کریں۔

سیمینار میں سر سید کالج آف میڈیکل سائنسز کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر زمان شیخ اور ایکسپریس میڈیا گروپ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کامران احمد نے تمام مقررین، میڈیا نمائندگان اور فارمسیوٹیکل کمپنیوں کو اعزازی شیلڈز پیش کیں۔

سیمینار کے اختتام پر ایکسپریس میڈیا گروپ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کامران احمد نے سیمینار میں شریک تمام طبی ماہرین، مہمانوں اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو