ذرائع آمدن کا تعین کیے بغیر الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے…؟

سابق وزیراعظم و مسلم لیگ (ن) کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے پارٹی کے صدر شہباز شریف کی ضمانت کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کیا۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ عدالت نے درخواست ضمانت کے فیصلے میں واضح کیا کہ نیب نے الزام لگایا ہے تو اسے ثابت بھی کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ذرائع آمدن کا تعین کیے بغیر الزام کیسے لگایا جاسکتا ہے؟ الزام لگانے والے اپنی حیثیت اور اثاثوں کے بارے میں بھی بتائیں۔

شاہد خاقان کا کہنا تھا کہ عوام بھی 3 سال سے لگائے گئے الزامات جاننا چاہتے ہیں، نیب نے اعتراف کیا شہباز شریف نے کوئی کک بیک نہیں لی، 55 یا 5500 والیوم ہوں، ثبوت دینا ضروری ہے، بغیر ثبوت والیوم کسی کام کے نہیں۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کو کس بنیاد پر نیب ریمانڈ اور جیل میں ڈال سکتے ہیں؟ نیب کا چیئرمین ملک کے قانون اور آئین سے باہر نہیں ہو سکتا، آئین کو کاغذ کا ٹکڑا سمجھنے والے کل جواب دہ ہوں گے۔

ن لیگ کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کےخلاف کرپشن کا کوئی ثبوت نہیں ملا، نیب کے ریفرنس الف لیلیٰ کی داستان کے علاوہ کچھ نہیں، عمران خان ن لیگ کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں کر سکتا، شہباز شریف کو پنجاب میں مثالی ترقی کی سزا دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا تمسخر اڑایا گیا، ایف آئی اے فیصلے پر عمل درآمد کی پابند تھی مگر شہبازشریف کو روکا گیا، یہ لوگ پاکستان کو بادشاہت بنانا چاہتے ہیں، جو ہم بننے نہیں دیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو