ذخیرہ اندوزی کیخلاف آرڈیننس منظور، 3 سال قید اور بھاری جرمانہ ہوگا

وفاقی کابینہ نے ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لیے سخت سزاؤں پر مشتمل آرڈیننس کی منظوری دے دی۔

آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزی سے فائدہ حاصل کرنے والے اصل مالکان کو سزا دی جائے گی جس میں 3 سال قید اور ضبط شدہ مال کی مالیت کا 50 فیصد بطور جرمانہ عائد ہوگا۔

آرڈیننس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کی نشاندہی کرنے والے کو ضبط کی گئی اشیاء کی مالیت کا 10 فیصد بطور انعام دیا جائے گا۔

آرڈیننس میں چائے، چینی، دودھ، پاؤڈر ملک، بچوں کی خوراک، خوردنی تیل، جوس، شربت، دالیں، نمک، آلو اور پیازکی ذخیرہ اندوزی سے متعلق نشاندہی کی گئی ہے۔ مچھلی، گوشت، انڈے، گُڑ، مصالحہ جات، سبزیاں، سرخ مرچ، دواؤں، مٹی کا تیل، چاول، گندم اور آٹے کی ذخیرہ اندوزی بھی آرڈیننس میں شامل ہے جبکہ ماسک بشمول این 95 ماسک، سینیٹائزر اور جراثیم کش ادویات کی ذخیرہ اندوزی سے متعلق بھی آرڈیننس میں نشاندہی کی گئی ہے۔

آرڈیننس کا اطلاق فی الحال وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں ہوگا۔ وفاقی کابینہ نے آرڈیننس کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری دی ہے جس کے بعد آرڈیننس صدر مملکت کو دستخط کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں وفاقی کابینہ نے کنسٹرکشن سیکٹر کے حوالے سے بھی آرڈیننس کی منظوری دی ہے جس کے تحت بلڈرز اور لینڈ ڈویلپرز کو خصوصی ٹیکس مراعات دی جائیں گی۔

ٹیکس مراعات کا نفاذ آرڈیننس کے اجراء سے شروع ہو جائے گا جس کے بعد تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری پر ذرائع آمدن نہیں پوچھے جائیں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن سے متعلق اجلاس بھی ہوا جس میں وزیراعظم کو اسمگلنگ کی روک تھام اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آرڈیننس پر بریفنگ دی گئی۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو