دنیا میں انقلاب لاتی ایجادات

اسرائیل کو شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کرنے سے اعتماد حاصل ہوا اور اسی ترقی کے اعتماد نے اسے عسکری طور پر مضبوط اور ہیبت ناک قوت بنا ڈالا۔

اسرائیل اپنی آمدن کا 4.5 فیصد سائنس و ٹیکنالوجی کی ترویج و ترقی پہ خرچ کرتا ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ وہاں ہر دس ہزار آبادی میں ’’145‘‘ سائنس دان اور ٹیکنیشن ہیں۔ یہ شرح بھی دنیا میں انتہائی بلند ہے۔

مثلاً امریکا میں یہ شرح ’’85‘‘فی دس ہزار اور جاپان میں ’’83‘‘ فی دس ہزار ہے۔ اسی طرح اسرائیل کی فی دس لاکھ آبادی میں ’’8500‘‘ سائنس داں اور محقق ہیں۔ یہ شرح بھی بہت زیادہ ہے۔ شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی میں محیر العقول ترقی کے باعث اسرائیل نے جدید ترین اسلحہ بنایا اور پڑوسیوں پر دھونس جمانے لگا۔جبکہ مسلمانوں کی تعداد تقریباً دو ارب ہو چکی مگر ہر اسلامی ملک کی دس ہزار آبادی میں سائنس دانوں اور محققوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اسی لیے عالم اسلام میں نہ کوئی سائنسی نظریہ جنم لیتا ہے اور نہ کوئی نمایاں ایجاد سامنے آتی ہے۔

اب تو مغرب ہی نہیں چین، جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی سائنس و ٹیکنالوجی کا بول بالا ہے۔

مشین کی حکومت

پانچ ہزار سال پہلے انسان نے پہیہ اور لیور ایجاد کیے تو اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے روزمرہ کام انجام دینے میں مشین سے مدد لے سکتا ہے۔ آج یہ نوبت پہنچ چکی کہ سافٹ وئیر، مصنوعی ذہانت اور روبوٹ سازی کے شعبوں میں بے پناہ ترقی کی وجہ سے خصوصاً ترقی یافتہ ملکوں میں قسم قسم کی مشینیں ایسے بیسیوں کام کرنے لگی ہیں. جنھیں ماضی قریب میں انسان انجام دیتے تھے۔ دنیا میں جنم لیتی یہ تبدیلی اپنے دامن میں بنی نوع انسان کے لیے فوائد اور نقصان، دونوں چھپائے ہوئے ہے۔

انسانی زندگی میں مشینوں کے بڑھتے عمل دخل پر کئی دانشور تنقید کرتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ مشینیں آخرکار ہر شعبہ حیات پہ چھا کر کروڑوں انسانوں کو بے روزگار کر دیں گی۔ان کی کمائی کے ذرائع پر مشینیں اور روبوٹ قبضہ کر لیں گے۔دنیا بھر میں بیشتر کام ’’خودکاری‘‘یعنی آٹومیشن کی بدولت انجام پائیں گے۔

خودکاری کے حامی دانشوروں کا کہنا ہے کہ مشینوں کا استعمال بڑھنے سے روزگار کے نئے مواقع جنم لیں گے۔ایسے نئے شعبے وجود میں آئیں گے جہاں آنے والے نوجوان کھپ سکیں۔یہ ماہرین آٹومیشن کے حق میں درج ذیل دلائل پیش کرتے ہیں:

٭…کارخانوں میں نت نئی ٹیکنالوجیوں کے ہنرمندوں کی ضرورت ہو گی جو زیادہ تنخواہیں پائیں گے۔یوں تنخواہ میں اضافے سے ملازمین کو فائدہ پہنچا۔

٭…مشینیں کم لاگت پر اشیا تیار کریں گی۔اس لیے وہ سستی ہو جائیں گی۔ان کے سستے ہونے سے صارفین کو فائدہ پہنچا۔

٭…مشینوں کے استعمال سے کارخانوں اور دفاتر میں اخراجات کم ہوں گے۔یوں کمپنیوں کو فائدہ ملے گا۔

٭…خودکاری سے جنم لینے سے مختلف نئی کمپنیاں ظہورپذیر ہوں گی۔یوں سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔ممالک کی معیشتیں ترقی کریں گی۔سبھی کو مالی فوائد ملیں گے۔

مغرب میں آٹومیشن ٹیکنالوجی مسلسل ترقی کر رہی ہے۔اسی لیے مشین یا روبوٹ تیار کرنے پر لاگت بھی گھٹ چکی۔ یہی وجہ ہے، مغربی ملکوں میں بتدریج مختلف کام مشینوں کی مدد سے انجام دئیے جانے لگے ہیں۔ سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ اب مصنوعی ذہانت کی مدد سے انسانی دماغ سے ملتا جلتا مشینی دماغ ایجاد کر لیا جائے۔ظاہر ہے،جب بھی انھیں کامیابی ملی،دنیا میں نیا انقلاب برپا ہو گا۔وجہ یہی کہ تب مشینیں تقریباً ہر وہ کام کر سکیں گی جنھیں انسان کرتے ہیں۔اب بھی روزمرہ کے کئی کام روبوٹ یا مشینیں انجام دینے لگی ہیں۔یہ عجوبہ مگر بیروزگاری بھی پیدا کر سکتا ہے جو ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

مشین کا ڈرامائی ارتقا دیکھتے ہوئے مستقبل میں دو منظرنامے جنم لیں گے۔اول یہ کہ بیروزگاری اور بڑھتی آبادی کے باعث پوری دنیا میں معاشی، معاشرتی اور سیاسی مسائل پیدا ہوں گے۔ اگر حکومتیں یہ مسائل حل نہ کر سکیں تو کئی ممالک میں ہنگامے ہو سکتے ہیں۔ عین ممکن ہے، عوام بغاوت کر دیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اٹھارویں صدی کے برطانیہ کی طرح بیروزگار کارخانوں پہ دھاوا بول کر مشینیں تباہ کر ڈالیں۔ یہ منظرنامہ مستقبل کی تشویش ناک تصویر سامنے لاتا ہے۔

دوسرا منظرنامہ یہ ہے کہ حکومتیں کامیابی سے مسائل حل کر لیں گی۔ اب نئی طرح کے انسانی معاشرے جنم لیں گے جہاں مشینیں سب کام کریں گی جبکہ انسانوں کو یہ آزادی مل جائے گی کہ وہ اپنا وقت من پسند سرگرمیوں میں گذار سکیں۔گویا انھیں فرصت کے بہت سے لمحات میّسر آئیں گے، وہ سیر و تفریح کریں گے۔ فنون لطیفہ کے شاہکار بنائیں گے۔زندگی آرام و سکون سے گذرنے لگے گی اور انسانوں کے مابین زیادہ سے زیادہ مادی اشیا پانے کی جو دوڑ لگ گئی ہے،وہ اختتام کو پہنچے گی۔

انسان کو اگرچہ ڈھیر ساری فراغت ملی تو اس سے نئے چیلنج پیدا ہوں گے۔مثال کے طور پر ہر انسان کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنا وقت نتیجہ خیز انداز میں گذارے۔مگر اس کا طریق کار خود انسان کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔ظاہر ہے، ہر انسان افسانہ نہیں لکھ سکتا اور نہ ہی تصویر بنا پاتا ہے۔مگر جب مشینیں تمام کام کر کے انسانوں کو پال رہی ہوں گی تو انسان کو من پسند سرگرمیاں انجام دینے کی خاطر کثیر وقت مل جائے گا۔گویا یہ منظر نامہ عیاں کرتا ہے کہ اگر اس نے عملی جامہ پہن لیا تو خوشگوار مستقبل ہمارا منتظر ہے۔

اب معاملے کا ایک اور رخ ہمیں مشینوں کے فروغ کا ایک منفی پہلو دکھاتا ہے۔ 1787ء میں برطانوی موجد،آرک رائٹ نے نے مشینی کھڈی ایجاد کر لی۔اس کی وجہ سے کپڑا بننے والی فیکٹریوں میں جولاہوں کی ضرورت نہ رہی اور وہ بیروزگار ہو گئے۔ وہاں سارے کام مشینی کھڈیاں کرنے لگیں۔ ان کھڈیوں نے ’’صنعتی انقلاب‘‘ برپا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔اس امر کا مگر منفی رخ یہ ہے کہ انھوں نے ہزارہا جولاہے بیروگار کر ڈالے۔یہ لوگ خاموش نہیں بیٹھے بلکہ انھوں نے مشینوں کے پھیلاؤ کے خلاف ایک متشدد تنظیم ’’لدتی‘‘ (Luddite) بنا لی۔

1811ء سے لدتی تنظیم کے کارکن ڈنڈوں، سریوں اور کدالوں سے مسلح ہو کر ٹیکسٹائل ملز پر حملے کرنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ امرا نے مشینی کھڈیاں بنا کر غریب جولاہوں کو بیروزگار کرنے کی سازش کی ہے۔ لہذا وہ فیکٹریوں پر حملے کرنے میں حق بجانب ہیں۔ 1816ء تک لدتی کے کارکنوں نے کئی کارخانوں پر دھاوا بولا۔ ان کے مالکان سے مقابلے بھی ہوئے۔ آخر برطانوی فوج نے اسلحے کے زور پر یہ بغاوت ختم کر دی۔ تاریخ انسانیت میں یہ مشین کے خلاف انسان کی پہلی بغاوت تھی۔

انسانی معاشروں میں مگر مشینوں کا استعمال بڑھتا چلا گیا۔ وجہ یہ کہ مشینیں انسان سے زیادہ کام کرتی ہیں۔ ان کو آرام کی ضرورت نہیں اور وہ کھانے پینے سے بھی مبّرا ہیں۔ وہ یونین بنا کر مطالبات بھی پیش نہیں کرتیں۔ ان خوبیوں کے سبب مشین کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی کی زبردست ترقی نے بھی مشین کے پھیلاؤ کو فروٖغ دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مشین اور انسان کا بڑھتا تال میل مستقبل میں کیا منظرنامہ سامنے لائے گا۔

مصنوعی ذہانت

عام الفاظ میں مصنوعی ذہانت(Artificial Intelligence) سے مراد وہ سافٹ وئیر یا کمپیوٹری پروگرام ہیں جن کی مدد سے کوئی مشین یا روبوٹ کام کر سکے۔ مصنوعی ذہانت کی دو بڑی اقسام ہیں:مشین لرننگ (Machine Learning) اور ڈیپ لرننگ (Deep Learning)۔ ان دونوں اقسام کے سافٹ وئیر مخصوص کمپیوٹری ہدایات رکھتے ہیں جنھیں ’’ الخوارزم‘‘ (Algorithms) کا نام دیا جا چکا۔مشین لرننگ والے سافٹ ویئر فراہم کیے گئے ڈیٹا کو پروسیس کرتے، اس سے ہدایات لیتے اور یوں اپنی ذمے داری انجام دیتے ہیں۔ان سافٹ وئیر کو جو کام تفویض کیا جائے،وہ صرف اسی کو انجام دیتے ہیں۔مثال کے طور پر ایک روبوٹ میں یہ سافٹ وئیر ڈالا گیا کہ اسے کمرے کی صفائی کرنی ہے۔چناں چہ وہ صرف کمرا صاف کرے گا، کوئی اور کام کرنے کی اس میں اہلیت و صلاحیت نہیں۔

ڈیپ لرننگ والے سافٹ وئیر زیادہ پیچیدہ الخوارزمی ہدایات رکھتے ہیں۔ان کی شکل وصورت انسانی دماغ میں پھیلی نسوں کے جال جیسی ہے۔اسی لیے یہ سافٹ وئیر ’’مصنوعی عصبی نیٹ ورک‘‘(Artificial Neural Network)بھی کہلاتے ہیں۔یہ بہت ترقی یافتہ اور نفیس ہیں۔ان کی خوبی یہ ہے کہ یہ فراہم کیے گئے ڈیٹا کو پروسیس کر کے اس سے نئے کام ’’سیکھ‘‘سکتے ہیں۔یعنی یہ سافٹ وئیر کسی حد تک خودمختار اور آزاد بھی ہیں۔وہ نئے ڈیٹا کی مدد سے نئی باتیں سیکھتے ہیں، بالکل جیسے پروان چڑھتا بچہ ماحول سے نت نئے کام کرنا سیکھتا ہے۔گویا ڈیپ لرننگ کی ٹکنالوجی ایسی مشین ایجاد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو کسی بچے کی طرح حاصل شدہ ڈیٹا سے نئی باتیں سیکھ سکے۔یہ ایک حیران کن اور انقلابی ایجاد ہے۔

کمپیوٹر کے اولیّں سافٹ وئیر ستر اسّی سال قبل ایجاد ہوئے تھے۔1970ء کے عشرے میں امریکی کمپنیوں،آئی بی ایم ،مائیکروسافٹ ،اوریکل وغیرہ کے ماہرین عام استعمال کے سافٹ وئیر بنانے لگے۔اس شعبے میں رفتہ رفتہ مذید جدتیں آئیں اور طاقتور سافٹ وئیر وجود میں آ گئے۔2000ء کے بعد تو رنگ برنگ کمپیوٹری پروگرام بننے لگے اور انٹرنیٹ نے انھیں گھر گھر پہنچا دیا۔مثال کے طور پر بٹ کوائن ایک سافٹ وئیر ہی ہے جس نے ڈیجٹل کرنسی کو رواج دیا۔جب یہ سافٹ وئیر وجود میں آیا تو بٹ کوائن کی مالیت صفر تھی۔آج ایک بٹ کوائن لاکھوں روپے مالیت رکھتا ہے۔

2000ء کے بعد ہی ماہرین ڈیپ لرننگ کے سافٹ وئیر بنانے کی کوشش کرنے لگے۔2014ء میں آخر انھیں کامیابی ملی اور وہ پہلا ایسا انقلابی سافٹ وئیر ایجاد کرنے میں کامیاب رہے۔پچھلے نو برس سے دنیا بھر میں سائنس داں ڈیپ لرننگ کے ایسے سافٹ وئیر بنانے پر جُتے ہیں جو عملی و نظریاتی طور پر زیادہ سے زیادہ انسانی دماغ کی نقل کر سکیں۔ان کی منزل یہ ہے کہ ڈیپ لرننگ کا ایسا سافٹ وئیر تخلیق کر لیا جائے جو ہر پہلو سے انسانی دماغ سے ملتا جلتا ہو۔گویا وہ کام کرنے میں انسان کے دماغ سے مماثل ہو جائے۔جب بھی انسان نے یہ کارنامہ انجام دیا،تو وہ لمحہ تاریخ ساز ہو گا۔

اب بھی ڈیپ لرننگ کے سافٹ وئیر کئی شعبوں میں انسان کے کام آسان بنا رہے ہیں۔مثلاً ایسے کمپیوٹری پروگرام ایجاد ہو چکے جو احکامات سن کر انھیں انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔یہ صلاحیت انھیں ڈیپ لرننگ ٹکنالوجی کی بدولت ہی ملی۔اسی طرح خودکار طریقے سے چلنے والی سیلف ڈرائیو کاروں میں نصب کیمرے یہی ٹکنالوجی رکھتے ہیں۔ان کیمروں کی مدد سے ہی کاریں اس قابل ہوئیں کہ ڈرائیور کے بغیر چل سکیں۔بچوں بڑوں میں مقبول چینی ایپ،ٹک ٹاک کا سافٹ وئیر ڈیپ لرننگ ٹکنالوجی سے بنایا گیا۔اسی طرح نت نئی ادویہ بنانے میں بھی یہ ٹکنالوجی ماہرین طب کی مدد کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ڈیپ لرننگ کے زیادہ موثر اور بہترین سافٹ وئیر تیار ہوں گے۔عین ممکن ہے کہ دس سال بعد یہ ٹکنالوجی نئے سافٹ وئیر تخلیق کرنے کے قابل ہو جائے۔گویا تب مشینیں انسانوں کے لیے سافٹ وئیر بنانے لگیں گی۔گو اس مرحلے میں بھی انسان کا کچھ نہ کچھ عمل دخل ضرور رہے گا۔یہ تبدیلی بہرحال انقلاب انگیز ہو گی کیونکہ مشین کے تخلیق کردہ سافٹ وئیر زیادہ عمدہ اور نفیس ہوں گے۔مگر اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہ عمل کئی ماہرین کو بیروزگار کر دے گا۔تاہم ایک خیال یہ ہے کہ اس وقت کمپیوٹر سائنس کے مذید نئے شعبے تخلیق ہوں گے۔لہذا ماہرین ان سے وابستہ ہو سکیں گے۔

سائنس دانوں نے مشینوں کے بنائے سافٹ وئیرز کو ’’2.0‘‘کا نام دیا ہے۔جو سافٹ وئیر انسان بنا رہے ہیں،انھیں اب ’’1.0‘‘کہا جاتا ہے۔ڈیپ لرننگ پر مبنی سافٹ وئیرز کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ بجلی بہت استعمال کرتے ہیں۔اس کے باعث جن ممالک میں بجلی کی قلت ہے،وہاں وہ کام نہیں آئیں گے۔تاہم امیر مغربی ممالک میں یہ سافٹ وئیر تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔وہاں روزمرہ استعمال کی اشیا میں انھیں نصب کیا جا رہا ہے تاکہ وہ زیادہ کارآمد بن سکیں۔خیال ہے،دنیائے مغرب میں اس شعبے کی مالیت ’’بیس ارب ڈالر‘‘تک پہنچ جائے گی۔

کمپیوٹر کا دماغ

پروسیسر کسی بھی کمپیوٹر کا دماغ ہوتا ہے۔یہ سی پی یو(سنٹرل پروسیسینگ یونٹ)بھی کہلاتا ہے۔یہی آلہ سافٹ وئیر کو عملی شکل دیتا اور کمپیوٹر میں پروسیسنگ کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔پروسیسر جتنا زیادہ طاقتور ہو،کمپیوٹر بھی اتنی ہی تیزی سے کام کرتا ہے۔ پروسیسروں کی مختلف اقسام ہیں۔

ماہرین اس آلے کو بھی بہتر سے بہترین بنانے کی جستجو میں کوشاں ہیں۔ ایک پروسیسر مخصوص ہدایت کے تحت وجود میں آتا ہے۔یہ اصطلاح میں ’’آئی ایس اے‘‘ (ٰInstruction Set Architecture) کہلاتی ہے۔ اس ہدایت کی بھی قسمیں ہیں۔ اسی لیے پروسیسر بھی مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ 1978ء تک امریکا میں جتنے بھی پروسیسر بنائے گئے، وہ ’’آر آئی ایس سی ‘‘(Reduced Instruction Set Computer) نامی ہدایت پر مبنی تھے۔ اسی سال امریکی کمپنی، انٹل نے اپنے پروسیسر متعارف کرائے۔ یہ نئے پروسسیر ’’86x‘‘ نامی آئی ایس اے ہدایت کے تحت بنائے گئے۔

یہ پروسیسر چھوٹے ہونے کے باوجود تیزرفتار تھے۔اسی لیے کمپیوٹر بنانے والے بیشتر ادارے انہی کو استعمال کرنے لگے۔جلد انٹل کے پروسیسر اس شعبے میں چھا گئے۔دیگر ہدایات پر مبنی پروسیسروں کی فروخت بہت کم رہ گئی۔اس دوران ایک اور امریکی کمپنی،اے ایم ڈی (AMD) بھی 86x ہدایت کے مطابق پروسیسر بنانے لگی۔کئی برس تک دنیائے کمپیوٹر میں انٹل کے پروسیسرہی چھائے رہے۔

2018ء کے بعد مگر اے ایم ڈی نے انٹل کو شکست دے ڈالی۔آج اے ایم ڈی کے پروسیسر انٹل والوں سے زیادہ تیزرفتار اور طاقتور ہو چکے۔ یہی نہیں،اب دیگر ہدایات کے مطابق بنے پروسیسر بھی عوام و خواص میں مقبولیت پانے لگے ہیں۔ان میں آر آئی ایس سی وی ،اے آر ایم (ایڈوانس آر آئی ایس سی مشین) اور گرافکس پروسیسنگ یونٹ نمایاں ہیں۔مائیکروسافٹ کارپوریشن نے حال ہی میں اپنا اے آر ایم پروسیسر بنانے کا اعلان کیا ہے۔

ماہرین بتاتے ہیں کہ فی الوقت اے آر ایم اور آر آئی ایس سی وی پروسیسرروں کا استعمال کم ہے مگر مستقبل میں انہی کا چلن ہو گا۔ ایک رپورٹ کی رو سے 2030ء میں دنیا کے ’’ستر‘‘ فیصد کمپیوٹروں میں یہی دو پروسیسرر نصب ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں پروسیسرر انٹل کے پروسیسروں کی نسبت سستے ہیں۔ اسی لیے ایپل کمپنی نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے کمپیوٹروں میں اے آر ایم پروسیسر لگانے کی متمنی ہے۔ اسی طرح مائکرو سافٹ کی پہلی ترجیع بھی یہی پروسیسر ہیں۔گویا آنے والے برسوں میں 86x ہدایت پر مبنی انٹل کمپنی کے پروسیسر قصّہ پارنیہ بن سکتے ہیں۔اگرچہ انٹل دیوہیکل کمپنی ہے، وہ بہ آسانی اپنے معاصرین سے ہار نہیں مانے گی۔

دنیائے انٹرنیٹ میں اب ویب سائٹ یا کوئی نیا سافٹ وئیر لانچ کرنے کے سلسلے میں ’’کلاؤڈ کپیوٹنگ‘‘(Cloud Computing) ڈیفالٹ پلیٹ فارم بن چکا۔ اسی پلیٹ فارم پر نیٹ دنیا میں سرگرم تمام کمپنیاں اپنے وسائل اور سروسسز یکجا کر رہی ہیں۔ ان سے نیٹ میں آنے والا ہر شخص مستفید ہو سکتا ہے۔

یہ پلیٹ فارم بڑے بڑے ڈیٹا سینٹروں کے سہارے قائم ہے جنھیں طاقت ور پروسیسرچلاتے ہیں۔کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں امریکی آن لائن تجارتی کمپنی، ایمزون ڈیٹا سنٹروں کا سب سے بڑا نیٹ ورک رکھتی ہے۔ اس نے حال ہی میں اپنے ڈیٹا سنٹروں میں گریویشن 2 اے آر ایم پروسیسر نصب کیے ہیں۔یہ انٹل کے پروسیسروں کی نسبت ’’48‘‘فیصد سستے ہونے کے باوجود ان سے زیادہ تیز رفتار ہیں۔اسی لیے ان کی تنصیب سے ایمزون اب سالانہ کروڑوں روپے کی بچت کر سکے گی جو ایک نمایاں فائدہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر اور نیٹ کمپنیوں نے اپنے متفرق آلات میں اے آر ایم اور آر آئی ایس سی وی کے پروسیسروں کی تنصیب جاری رکھی تو عنقریب انٹل کی آمدن خاصی گھٹ جائے گی۔ پچھلے سال ان نئے پروسسروں کی مارکیٹ ایک ارب ڈالر مالیت رکھتی تھی۔ مگر ماہرین کہتے ہیں، اگلے دس برس میں یہ مالیت ایک سو ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

اس وقت بھی انٹل کے پروسیسر موجود ہوں گے مگر ان کی مارکیٹ سکڑ چکی ہو گی۔ دراصل مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرز کو اپنا کام درست طریقے سے انجام دینے کی خاطر طاقتور پروسیسر درکار ہیں۔ انٹل کے پروسیسر ان کی مانگ پوری نہیں کر پا رہے۔اسی لیے دیگر ہدایات پر مبنی نئے پروسیسر سامنے آ رہے ہیں جو زیادہ طاقتور ہیں۔گویا پروسیسرکے شعبے میں ایک انقلاب جنم لے چکا جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں ترقی تیز تر کر دے گا۔

برقی گاڑیاں

کم لوگ جانتے ہیں کہ بجلی سے چلنے والی کار کوئی نیا اعجوبہ نہیں…ایسی پہلی کار امریکا میں 1881ء ہی میں ایجاد کر لی گئی تھی۔اس کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ بیٹری بہت فضول تھی۔ایک مرتبہ چارج کرنے کے بعد وہ کار کو چند میل دور ہی لے جا پاتی۔اسی لیے برقی کار عوام میں شہرت نہ پا سکی۔اسی دوران پٹرول و ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں ایجاد ہوئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا پہ چھا گئیں۔اکیسویں صدی میں آلودگی کے مسائل پٹرول و ڈیزل سے وابستہ ہوئے تو سائنس داں پھر برقی کاریں بنانے کی سمت متوجہ ہوگئے۔

اب سائنس وٹکنالوجی میں جدتیں آنے سے بہتر بیٹریاں بننے لگی تھیں۔اس تبدیلی سے برقی گاڑیاں کے شعبے نے بھی فروغ پایا۔ 2010ء کے بعد ماہرین نے آخر ایسی بیٹریاں بنا لیں جو کار کو کئی میل دور لے جاسکیں۔حکومتوں نے بھی اس شعبے کو مراعات دیں جس سے بڑھوتری ہوئی۔لوگ آہستہ آہستہ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں خریدنے لگے۔اب مغربی ممالک میں تو ان کی فروخت خاصی بڑھ چکی۔

فی الوقت امریکی کپمنی، ٹیسلا کی بنائی برقی کاریں دنیا بھر میں مقبول ہیں۔اس کی ماڈل 3-نامی برقی کار ایک بار چارجنگ کے بعد 423 کلومیٹر (263میل) تک سفر کرسکتی ہے۔اسی کار کا طویل فاصلے تک جانے والا ورژن بھی ہے۔وہ ایک دفعہ چارج کرنے کے بعد 586 کلومیٹر (353میل) تک جاتی ہے۔

گویا اس گاڑی کی صرف دو بار چارجنگ کیجیے اور لاہور سے کراچی پہنچ جائیے۔اس کار کی قیمت امریکا میں 37ہزار ڈالر ہے۔پٹرول و ڈیزل کی گاڑیاں مضر صحت دھواں خارج کرتی ہیں۔ان کے باعث خصوصاً شہروں میں آلودگی بے پناہ بڑھ چکی۔اسی لیے مغربی ملکوں میں انھیں ختم کرنے کا سلسہ شروع ہو چکا۔مثلاً نئے امریکی صدر،جو بائیڈن نے حکم دیا ہے کہ تمام سرکاری گاڑیاں 2025ء تک برقی کر دی جائیں جو کسی قسم کا دھواں نہیں چھوڑتیں۔

اب تو ایشیا کے بڑے ممالک مثلاً جاپان،جنوبی کوریا،چین ،تائیوان اور سنگاپور میں بھی الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ان ملکوں کی حکومتیں اپنے شہریوں کو ہزارہا ڈالر کی سبسڈی دے رہی ہیں تاکہ وہ برقی کاریں خریدنے کی جانب راغب ہوں۔حالات سے عیاں ہے کہ مستقبل میں سڑکوں پہ زیادہ تر برقی گاڑیاں ہی دکھائی دیں گی۔اسی لیے بیشتر کار ساز ادارے بھی الیکٹرک کاریں بنانے لگے ہیں تاکہ اپنا وجود برقرار رکھ سکیں۔ان کے مابین سستی برقی گاڑیاں بنانے کا صحت مند مقابلہ جنم لے چکا۔اس سے صارفین کو فائدہ پہنچے گا کہ انھیں سستی الیکٹرک کاریں میسّر آئیں گی۔خیال ہے کہ 2025ء تک برقی گاڑیوں کی ماریکٹ کی مالیت پٹرول وڈیزل کی کاروں سے بڑھ جائے گی۔

ڈیجٹل بٹوہ

یہ جدید ترین ایجاد ہے جسے ’’ای بٹوہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ سافٹ وئیر کے ذریعے کام کرنے والا مالی نظام ہے۔اس کی مدد سے صارف بذریعہ انٹرنٰیٹ اپنے موبائل فون یا کمپوٹر سے ہر قسم کا لین دین کر سکتا ہے۔بینک ایسا مالی نظام بنا چکے مگر نجی کمپنیاں بھی ان کی مالک ہیں۔وہ ڈیجٹل بٹوے تخلیق کر کے صارفین کو لین دین کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔پچھلے چند برس سے ڈیجٹل بٹوے دینے والی کئی کمپنیاں وجود میں آ چکیںجن میں پے پال،علی پے،وی چیٹ قابل ذکر ہیں۔

ڈیجٹل بٹوے کا فائدہ یہ ہے کہ آپ گھر بیٹھے لین دین کر لیں اور بینک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس طرح وقت اور توانائی کی بچت ہوتی ہے۔نیز یہ رقم منگوانے یا کسی کو بھجوانے کا تیزرفتار ذریعہ بھی ہے۔اس کی مدد سے بل ادا کر دیں۔یہی وجہ ہے، دنیا بھر میں کروڑوں افراد اپنے بینک اکاؤنٹ چھوڑ کر ڈیجٹل بٹوے حاصل کر رہے ہیں۔

یہ چلن مغربی ملکوں کے علاوہ ایشیا میں بھی جنم لے چکا۔اہل چین تواس نئے مالیاتی نظام پر فدا ہیں۔2015ء میں چینی شہریوں نے ڈیجٹل بٹوؤں کی وساطت سے دو ٹریلین ڈالر کا لین دین کیا تھا۔پچھلے سال اس لین دین کی مالیت ’’ 36 ٹرلین ڈالر‘‘ تک پہنچ گئی۔

یہ عدد چین کے جی ڈی پی سے تین گنا بڑا ہے۔ اسی طرح امریکا میں بھی ڈیجٹل بٹوہ مالیاتی انقلاب لا چکا۔وہاں حالت اب یہ ہے کہ بینک اکاؤنٹس کی نسبت امریکی ڈیجٹل بٹوے زیادہ رکھتے ہیں۔ اس وقت سکوائر اور پے پال ڈیجٹل والٹ کمپنیوں کے صارفین کی تعداد چھ کروڑ سے زیادہ ہو چکی۔یہ صارف انھوں نے صرف سات سال میں پا لیے۔جبکہ امریکی بینک،جے پی مورگان کو چھ کروڑ صارف پانے میں تیس سال لگ گئے تھے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو