دنیا بھر کی ائیر لائنز اور پی آئی اے کی بہتری کی شکل

ریان ایئر دنیا کی محفوظ ترین ایئر لائنز میں سے ایک ہے. آئر لینڈ کی اس ایئر لائن نے 1984ء میں آپریشنز سٹارٹ کئے اور آج تک ان کا ایک بھی طیارہ نہیں گرا .کبھی ان کا بڑا حادثہ نہیں ہوا. یورپ کی مقبول ترین ایئر لائن جس نے اگست 2018ء میں ایک ارب پسنجرز اٹھائے.

اب دوسری بجٹ ایئر لائن کی بات کر لیں. برطانیہ کی ایزی جیٹ … اس کا بھی آج تک کبھی حادثہ نہیں ہوا. یہ بھی دنیا کی محفوظ ترین ایئر لائنز میں سے ایک ہے. باقی ان کے کرائے اتنے کم ہوتے ہیں کہ آپ کو یقین نہیں آئے گا.

باقی ریان ایئر اور ایزی جیٹ وغیرہ … یہ سب پرائیویٹ ایئر لائنز ہیں. یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ان کے علاوہ … دنیا کی محفوظ ترین ایئر لائنز میں … آسٹریلیا کی کینٹاس، دبئی کی ایمریٹس، امریکن ہوائی، قطر، ورجن اٹلانٹک، ورجن آسٹریلیا، ابوظہبی کی اتحاد اور چین کی ہنینین شامل ہیں.

آج صبح اٹھ کے ای میل چیک کی تو دیکھا ہے کہ یورپین بجٹ ایئر لائن ریان ایئر نے سیل لگائی ہوئی ہے. لندن سے فرانس، ڈنمارک، آئر لینڈ چیک ریپبلک وغیرہ کی فلائٹس، پانچ پانچ پاؤنڈ پہ لگی ہوئی ہیں. پانچ پاؤنڈ مطلب ایک ہزار روپیہ پاکستانی … ایک ہزار روپے میں دوسرے ملکوں کے ایئر ٹکٹس بیچ رہے ہیں. پورے یورپ کی فلائٹس انتہائی سستی. جرمنی، اٹلی، پولینڈ، سپین وغیرہ کی لندن سے فلائٹس … صرف دس دس پاؤنڈ (دو ہزار روپے پاکستانی ) میں . جو ملک تھوڑے زیادہ دور ہیں . ان کی فلائٹس تھوڑی مہنگی ہیں . یونان، یو کے سے کافی دور ہے . اس کی فلائٹ اوسطا پچاس پاؤنڈ کی ہے. یعنی دس ہزار روپے. لیکن آپ یہ بھی دیکھیں کہ فاصلہ کافی زیادہ ہے. یہ قیمتیں ضروری نہیں کہ فکس ہوں. جب رش کا سیزن ہو تو ٹکٹس مہنگے ہو سکتے ہیں. جب آف سیزن ہو تو ٹکٹس کوڑیوں کے مول بکتے ہیں. ریان ایئر، ایزی جیٹ، فلائی بی، یہ سب بجٹ ایئر لائنز ہیں. جو انتہائی سستی ایئر ٹکٹس بیچتی ہیں. ان فلائٹس میں آپ صرف ہینڈ کیری لے کے جا سکتے ہیں. اگر مزید سامان لے کے جانا ہو تو وہ تھوڑے بہت چارجز دے کے لے جا سکتے ہیں . فلائٹ میں کھانا پینا نہیں ملتا. وہ آپ نے اپنا لانا ہے یا فلائٹ کے دوران خریدنا پڑے گا. لیکن جب اتنی سستی فلائٹ ہو تو کھانے کی کس کو فکر ہے. بندہ تھلے اتر کے اپنی مرضی کا کھانا کھا لے. ایئر ٹکٹ تو سستی ملے .

یہاں مزے کی بات یہ ہے کہ ایک دفعہ ریان ایئر کے چیف ایگزیکٹو نے تجویز دی تھی کہ کرائے مزید سستے کر دیتے ہیں لیکن سٹینڈنگ فلائٹس ہوں گی یعنی جہاز ایچ کھڑے ہو کے جاؤ . سیٹیں تھیں اس ڈیزائن میں لیکن ایسی کہ آدھے بندے بیٹھے رہے آدھے کھڑے رہیں. خیر شاید یہ مزاق ہو لیک مستقبل میں شاید ایسا ہو بھی جائے.

یہ بجٹ ایئر لائنز صرف یورپ میں آپریٹ کرتی ہیں. یورپ سے باہر صرف تین چار ملک ہیں جہاں یہ جاتی ہیں. ان ممالک میں مراکش، مصر اور اسرائیل شامل ہیں جو کہ پاپولر ہالی ڈے destinations ہیں. غالب امکان یہی ہے کہ یورپ کا معاشی نظام بہت بزنس فرینڈلی ہے. اس لئے حکومتیں ان ایئر لائنز کو اتنا facilitate کرتی ہیں کہ وہ صارفین کو اتنے کم کرائے پہ فلائٹس بیچ پاتی ہیں.

اس سب کی وجہ سے یورپ میں لوگوں کا بائی ایئر ٹریول کرنا بہت سستا اور آسان ہے. یاد رہے کہ ٹرین کا سفر زیادہ مہنگا ہے کیونکہ یہاں ٹرین کے سفر کو لگژری سمجھا جاتا ہے. ایسا کیسے ممکن ہوتا ہے. کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں، بلکل سادہ سا پراسس ہے. تین مین پارٹیز … تین مین سٹیک ہولڈرز ہوتے ہیں .صارفین، حکومت، ایئر لائنز . یہ تینوں مل کے بیٹھتے ہیں. صارفین کہتے ہیں کہ ہماری اچھی سروس، مناسب قیمت پہ چاہیے . حکومت ایئر لائن ز سے پوچھتی ہے کہ ہاں جی، یہ سروس دینی ہے، آپ اس کی مناسب قیمت کیا لیں گے؟… ایئر لائنز اپنا حساب کتاب کر کے بتاتی ہیں کہ یہ قیمت چاہیے. تینوں سٹیک ہولڈرز ایک اگریمنٹ پہ آ جاتے ہیں کہ اس سروس کے لئے یہ قیمتیں ہوں گی. حکومت صرف ریگولیٹر کا کام کرتی ہے اور دیکھتی رہتی ہے کہ ایئر لائنز اچھی سروس دیں اور مناسب قیمتیں لیں. سب کی جب نیت صاف ہوتی ہے تو سب کا کام بن جاتا ہے. یہ ایئر لائنز اپنے اخراجات اور سٹاف کی تنخواہیں یورو اور پونڈز میں ادا کرتی ہیں، پھر بھی ہر سال اربوں پاؤنڈز اور یوروز کا پرافٹ کما لیتی ہیں.

پوری دنیا کے مختلف علاقوں میں بجٹ ایئر لائنز چلتی ہیں. لیکن جتنی بہترین بجٹ ایئر لائنز یورپ کی ہیں کہ کم قیمت اور بہترین سروس. وہ کہیں اور نہیں، مڈل ایسٹ میں ایئر عربیہ پہ سفر کرنے کا اتفاق ہوا. وہ بھی بجٹ ایئر لائن ہے لیکن اس کے کرائے بھی کافی زیادہ ہیں. جو مزہ یورپ میں ہے، وہ کہیں اور نہیں.

جبکہ پاکستان کے حساب سے فلائٹس انتہائی مہنگی ہیں. پاکستان میں ایئر ٹریول ایک لگژری ہے جس کی، پاکستانی عوام سے بھاری قیمت وصول کی جاتی ہے. پھر بھی پی آئی اے کے طیارے بھی گرتے ہیں اور اس کا نقصان کبھی ختم ہی نہیں ہوتا. دوسری ایئر لائنز … انتہائی سستی فلائٹس بیچ کے بھی سالانہ اربوں یوروز اور پاؤنڈز کے پرافٹس کماتی ہیں کہ کاروبار میں برکت ہی اتنی ہے. پاکستان کی پی آئی اے ہے جس کو بائیس کروڑ پاکستان اپنا فخر سمجھتے ہیں. اس میں سفر کو ترجیح دیتے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ، اس بات پہ ڈھیٹ بنی ہوئی ہے کہ اس نے اس قومی اثاثے کو تباہ کرنا ہے.

دوسری طرف ہمارے ہاں کیا ہوتا ہے، کوئی انویسٹر آ کے حکومت کو اپنا پلان بتائے کہ میں آپ کے ملک میں کام کرنا چاہتا ہوں تو پہلا سوال ہوتا ہے . سانو کی دیو گیے؟… رشوت اور کک بیک کی نحوست پہلے سٹیپ سے ہی جب پراسس کا حصہ بنے گی تو پھر ہوگا یہ کہ اسلام آباد کراچی کی ون وے فلائٹ، پچیس سے اٹھائیس ہزار روپے کی ہوگی. غضب خدا کا، پاکستانی عوام کے لئے تو ایئر ٹریول ایک بہت مہنگی لگژری ہے. اندازہ کریں کہ ڈومیسٹک فلائٹس کتنی مہنگی ہیں. حالانکہ یہاں گنی چنی ایئر لائنز ہیں اس لئے یہاں ان کی اجارہ داری ہے اور یہ عوام سے من مانے کرائے وصول کرتے ہیں. انہوں نے سٹاف کو تنخواہیں اور دیگر اخراجات بھی پاکستانی روپوں میں ادا کرنے ہوتے ہیں .پھر بھی ہر سال یہ اربوں کے نقصان کرتے ہیں کیوں کہ نیتیں گندی ہیں اور سیاسی پارٹیوں نے اپنے کارکنان کو گھوسٹ ملازمین بنا کے قومی ادارے میں گھسایا ہوا ہے. جہاز کا فیول کا خرچہ کافی اکنامیکل ہوتا ہے.

پاکستان میں مافیاز کے کردار تو سرکاری محکموں میں بھی ہیں۔ ہمارے جن سرکاری اداروں میں یونینز کا کردار رہا، وہ ادارے برباد ہو گئے۔

60ء کی دہائی میں جب پی آئی اے کا بوئنگ طیارہ چین گیا تو چینی دیکھنے آئے کہ پاکستان کی کیا شاندار ائیر لائن ہے جس کے پاس ایسا طیارہ ہے۔ میں نے ایک پرانی تصویر دیکھی جس میں جان ایف کینیڈی کی اہلیہ پی آئی اے کے اسٹاف کو سلام کر رہی تھیں، پھر یہ کیا ہوا کہ آج پی آئی اے بری ایئر لائن بن گئی۔

اس کا جائزہ لیتے ہیں، اب کیا ہونا چاہئے تاکہ پی آئی اے پھر سے شاندار ایئر لائن بن جائے۔ یہ ادارہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے بنا، ساٹھ کی دہائی سے لے کر 2007ء تک شاندار رہا، پورے ایشیا میں سب سے پہلے جیٹ کا استعمال اسی نے کیا، اسی نے فلائٹ میں انٹرٹینمنٹ سسٹم متعارف کروایا، یہ ائیر لائن چار براعظموں کی 73 منازل طے کرتی رہی۔ اس کی یونیفارم پیری کارڈن نے ڈیزائن کی، بیجنگ کی پہلی پرواز ہوئی۔ ایشیا میں پہلی مرتبہ بوئنگ 777اسی ایئر لائن میں شامل ہوا۔ اسی پی آئی اے نے ایمریٹس، سنگا پور ایئر لائن اور ملایشین ایئر لائن کو کھڑا کرنے میں مدد کی۔

پی آئی اے کی بربادی کا آغاز 90 کی دہائی میں اس وقت شروع ہوا جب پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نے زبردستی دو تین ہزار افراد کو پی آئی اے کا حصہ بنا دیا۔ تمام کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کر دیا، زبردستی سکھر اور حیدر آباد کے لئے پروازیں شروع کروائی گئیں۔

مشرف دور میں پی آئی اے کی سرجری ہوئی، آپ کو یاد ہوگا کہ احمد مختار کے بھائی احمد سعید پی آئی اے کے چیئرمین بھی بنے تھے، اس دور میں غیرضروری ملازمین کو فارغ کر دیا گیا اور 9بوئنگ 777طیاروں کو پی آئی اے کا حصہ بنایا گیا مگر 2008ء میں پیپلز پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی نکالے گئے تمام ملازمین کو بحال کر دیا گیا، نہ صرف بحالی ہوئی بلکہ پچھلی تمام تنخواہیں بھی ادا کی گئیں۔ تمام فوائد بھی دے دئیے گئے۔ ترقیاں بھی دے دی گئیں، اس کے ساتھ ہی نااہل ایم ڈی رکھنے کا رواج شروع ہوا، روز ویلٹ ہوٹل سمیت پی آئی اے کی باقی جائیدادوں کی بربادی بھی شروع ہو گئی کیونکہ وہ من پسند لوگوں کے حوالے کر دئیے گئے۔

ریزرویشن سسٹم بھی من پسند ٹریول ایجنسیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ ظاہر ہے یہ مفادات کا کھیل تھا۔ چیزوں کی سپلائی کے ٹھیکے بھی من پسند پارٹیوں کو دئیے گئے۔ یونین نے پیپلز یونٹی کے نام سے ایئر لائن پر قبضہ ہی کر لیا۔ ایک ائیر لائن کو غلط ہاتھوں میں دینے کا نقصان یہ ہوا کہ 2013ء تک پی آئی اے تقریباً 1.8بلین ڈالرز کے خسارے میں چلا گیا۔

2013ء میں ن لیگ اقتدار میں آئی تو انہوں نے پورا ادارہ شجاعت عظیم کے حوالے کر دیا، اب یونین میں ایئر لیگ نے پر نکالے۔ اس شاہی دور میں پی آئی اے کو ذاتی ٹرانسپورٹ کی طرح استعمال کیا جانے لگا۔ لندن کے دورے شروع ہوئے، ایک اسپیشل پریمیئر سروس کی وجہ سے پی آئی اے کو چھ بلین کا نقصان ہوا، اب ہر طرف کرپشن اور نااہلی کے چرچے ہونے لگے مگر پھر بھی کہا گیا کہ بیرونی پروازیں بڑھاؤ۔ اس سے تین بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔

ن لیگ کے بعد پی ٹی آئی اقتدار میں آ گئی۔ پی ٹی آئی نے نااہلی اور ناتجربہ کاری کے ساتھ پی آئی اے میں چھلانگ لگائی۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔

پی آئی اے کے پاس صرف دو ہوٹل ہیں جو ملین ڈالرز کماتے ہیں مگر ان دونوں ہوٹلوں کی آمدن کو پوری طرح استعمال نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نیو یارک اسٹیٹ اور فرانس کے قوانین حائل ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان پرائیوٹائزیشن لا کے مطابق بھی یہ کمائی پی آئی اے کو نہیں جا سکتی۔ کورونا کے بعد تو صورتحال ہی اور ہوگئی ہے۔ دنیا میں کئی ایئر لائنز کریش کر گئی ہیں۔ پی آئی اے بھی گراؤنڈ ہونے والی ہے۔ پی آئی اے کو تین ماہ گراؤنڈ کرکے نئے سرے سے آغاز کیا جائے اور آغاز سے پہلے یونین پر مکمل پابندی لگا دی جائے۔

آپ کو یاد ہوگا کہ پی آئی اے کے تین پائلٹ مختلف اوقات میں لندن سے اس لئے نہیں اڑ سکے تھے کہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی۔ دنیا بھر میں اڑان سے پہلے جہازوں کے علاوہ پائلٹس کو بھی چیک کیا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں شاید دونوں کو چیک نہیں کیا جاتا۔ کئی پائلٹ تو جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہوئے۔ پی آئی اے میں تو شیڈولنگ کے وقت بھی پیسہ چلتا ہے، شیڈولنگ کا مطلب ہے اسٹاف کی ڈیوٹیاں ہر کوئی تو بیرونی پرواز پر ڈیوٹی لگوانا چاہتا ہے۔ پسند کے شہروں میں جانا چاہتا ہے۔

پی آئی اے کی نئے سرے سے اسٹرکچرنگ ہونی چاہیے۔ نیا فلیٹ متعارف کروایا جائے، ہر شعبے کو بدل کر رکھ دیا جائے۔ عیاشیوں کو ختم کر دیا جائے.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو