کووڈ سے متاثر ایک شخص کے باعث 5 ہزار افراد قرنطینہ میں جانے پر مجبور

یہ واقعہ بیجنگ میں پیش آیا / رائٹرز فوٹو
یہ واقعہ بیجنگ میں پیش آیا / رائٹرز فوٹو

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ایک شخص کے گھر تک محدود رہنے کی ہدایت پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں ہزاروں افراد کو قرنطینہ میں جانا پڑا۔

حکام کے مطابق 40 سال سے زائد عمر کے اس شخص سن (پورا نام نہیں بتایا گیا) نے وائرس کے زیادہ خطرے سے دوچار قرار دیے جانے والے شاپنگ سینٹر میں جانے کے بعد آئسولیشن کی ہدایت پر عمل نہیں کیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ گھر میں آئسولیشن کے دوران یہ شخص متعدد بار باہر آیا اور علاقے میں گھومتا رہا۔

سن اور اس کی بیوی میں بعد میں کووڈ کی تشخیص ہوئی جس کے باعث انتظامیہ نے اس علاقے میں لاک ڈاؤن لگاتے ہوئے 5 ہزار افراد کو گھروں تک محدود کردیا جبکہ 250 کو حکومتی قرنطینہ مرکز بھیج دیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بیجنگ میں 30 مئی سے حکام کی جانب سے پابندیوں کو نرم کرتے ہوئے پارکوں، میوزیم اور سنیما گھروں کو پھر سے کھولا جارہا ہے۔

چین کی جانب سے لاک ڈاؤنز، بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور قرنطینہ کے طویل دورانیے پر مشتمل زیرو کووڈ حکمت عملی پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔

حکومتی پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جارہی ہیں اور سن نامی شخص کے خلاف پولیس کی تحقیقات جاری ہے۔

ہزاروں افراد کے قرنطینہ میں جانے کا باعث بننے والے شخص پر انٹرنیٹ پر لوگوں نے کافی تنقید کی۔

بیجنگ میں اپریل کے اختتام سے اب تک 17 سو سے زیادہ کووڈ کیسز کی تشخیص ہوئی مگر گزشتہ ہفتے سے کیسز کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی۔

دوسری جانب شنگھائی میں بھی کاروباری اداروں کو یکم جون سے دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

لگ بھگ 2 ماہ سے چین کے صنعتی ہب میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بند تھیں۔