کراچی کے مختلف علاقوں کے عجیب ناموں کے پیچھے چھپی کہانیاں

ناگن چورنگی کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
ناگن چورنگی کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

کسی جگہ یا مقام کا نام جغرافیائی اور ثقافتی طور پر بہت اہم ہوتا ہے جو وہاں رہنے والے افراد کے رجحانات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

سائنسی طور پر دیکھا جائے تو نام سے دماغ میں جیسے جذبات متحرک ہوتے ہیں وہ کسی چیز کی وضاحت کے لیے ہمارے الفاظ سے زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں اور اسی لیے اچھے سے اچھا نام رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مگر کراچی ایسا شہر ہے جہاں متعدد حصوں کے نام کچھ ایسے ہیں جن کو سن کر خیال آتا ہے کہ ان علاقوں کے لیے عجیب ناموں کا انتخاب کیوں کیا گیا۔

سب علاقوں کے ناموں کے انتساب کی وجہ تو معلوم نہیں جیسے ڈسکو موڑ نام کیسے رکھا گیا، یہ معلوم نہیں مگر جن کی تفصیلات سامنے آچکی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

کھارا در اور میٹھا در

کھارا در میں واقع وزیر مینشن / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
کھارا در میں واقع وزیر مینشن / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

یہ کراچی کے قدیم ترین علاقے ہیں جو برطانوی راج سے پہلے اس وقت بھی موجود تھے جب یہ شہر ماہی گیروں کا ایک چھوٹا سے گاؤں تھا ۔

ڈان آئیکون میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق ان دونوں علاقوں کے ناموں کی وجہ 18 ویں صدی میں چھپی ہوئی ہے۔

1729 میں یہ شہر دریائے لیاری سے لے کر بحیرہ عرب کے درمیان 35 ایکڑ پر پھیلا ہوا تھا اور ایک فصیل ارگرد پھیلی ہوئی تھی جس کا مغربی دروازہ سمندر کی جانب جاتا تھا اور اسی لیے اسے کھارا در کہا جانے لگا یعنی کھارے پانی کا دروازہ۔

دوسرا دروازہ شمال مشرق میں دریائے لیاری کی جانب لے جاتا تھا اور اسے میٹھا در کہا جانے لگا یعنی میٹھے پانی کا دروازہ ، حالانکہ اب لیاری دریا کی بجائے نالے میں تبدیل ہوچکا ہے  اور یہ دونوں دروازے بھی نہیں رہے مگر یہ نام برقرار  ہیں۔

ناگن چورنگی

ناگن چورنگی کا ایک منظر / فیس بک فوٹو
ناگن چورنگی کا ایک منظر / فیس بک فوٹو

صحیح بات تو یہ ہے کہ اس بارے میں درست طور پر کہنا مشکل ہے کہ یہ نام کیوں رکھا گیا، کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں یہاں سانپ بستے تھے تو کچھ کے خیال میں چورنگی کا ڈیزائن کچھ اس قسم کا تھا کہ اسے دیکھ کر ناگن چورنگی کہا جانے لگا۔

مگر برطانوی نشریاتی ادارے کی 2003 کی ایک رپورٹ کے مطابق ناگن چورنگی کی جگہ پر کبھی کچا راستہ تھا جہاں سے ریتی بجری کے ٹرک تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے راہ گیروں کو ٹکر مار کر ہلاک کردیتے۔

ان حادثات کی خبر بناتے ہوئے یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ جائے حادثہ کا نام کیا ہے تو کسی صحافی نے اس مقام کو ناگن سے موسوم کردیا، یعنی کسی ناگن کی طرح انسانوں کو ڈسنے والا مقام۔

لالو کھیت

لالو کھیت یا لیاقت آباد کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
لالو کھیت یا لیاقت آباد کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

اس مشہور علاقے کا نام کس نے نہیں سن رکھا ، ویسے تواسے لیاقت آباد کا نام دیے بھی کافی عرصہ ہوچکا ہے مگر اب بھی بیشتر افراد لالو کھیت ہی کہتے ہیں۔

یہ انتہائی گنجان آباد علاقہ ہے اور اسی لیے یہ سوچنا بہت مشکل ہے کہ کبھی یہ ایک زرعی علاقہ تھا جو دریائے لیاری کے کنارے پر واقع تھا ۔

پاکستان کے قیام کے بعد حکومت نے ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے زمین خریدنا شروع کی اور ایک کسان لالو سے اس اراضی کو خریدا اور اس طرح یہ لالو کھیت کے نام سے مشہور ہوگیا۔

دو منٹ چورنگی

دومنٹ چورنگی / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
دومنٹ چورنگی / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

اس نام کو رکھنے کی وجہ بہت سادہ ہے مگر کیوں یہ مقبول ہوا یہ کسی کو معلوم نہیں، ایک زمانے میں نارتھ کراچی کی اس چورنگی سے ہر 2 منٹ میں سرکاری بسیں چلا کرتی تھیں ۔

گولیمار

ویسے تو اس علاقے کا سرکاری نام گلبہار ہے مگر مشہور یہ گولیمار کے نام سے ہی ہے۔

برطانوی راج میں یہ علاقہ سنسان ہوا کرتا تھا تو برطانوی فوجی یہاں نشانے بازی کی مشق کرتے تھے اور فائرنگ کراتے ہوئے انسٹرکٹرز کی جانب سے نعرہ لگایا جاتا تھا گولی مار، تو اس طرح لوگوں نے اسے گولیمار کا نام دے دیا۔

پاپوش نگر

پاپوش نگر کے کسی مقام کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
پاپوش نگر کے کسی مقام کا ایک منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

ویسے تو اب اس علاقے میں میڈیکل اسٹورز یا کھانے پینے کی دکانیں کافی زیادہ ہیں مگر ایک زمانہ تھا جب یہاں جوتوں کی صنعت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی ۔

پا اور پوش 2 الفاظ کا مجموعہ ہیں جن کا مطلب جوتے پہننا ہے اور اسی کو دیکھتے ہوئے اسے پاپوش نگر کہا جانے لگا ۔

بفر زون

بفر زون کے ایک پارک کا منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
بفر زون کے ایک پارک کا منظر / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

انگلش زبان کے لفظ بفرزون کا مطلب 2 دشمنوں کے درمیان کا خالی یا غیرجانبدار علاقہ ہوتا ہے، مگر کراچی میں اس نام سے ایک پورا علاقہ موجود ہے، جس کی وجہ کافی دلچسپ ہے۔

جس زمانے میں کراچی پاکستان کا دارالحکومت تھا تو مہاجرین کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے قیام کے لیے بھی منصوبوں پر کام کیا گیا تھا اور 1953 میں فیڈرل بی ایریا کے نام سے ایک ہاؤسنگ اسکیم کا آغاز ہوا۔

یہ 1948 کے فیڈرل کیپیٹل ٹیرٹری پلان کا حصہ تھا جس کے تحت ایف سی ایریا اور ایف بی ایریا کا قیام وجود میں آیا۔

حکومتی زون کے درمیان کے حصے کو بفرزون کا نام دیا گیا تاکہ حساس مقامات تک لوگوں کی رسائی روکی جاسکے مگر 1959 میں دارالحکومت اسلام آباد منتقل ہوگیا اور فیڈرل کیپیٹل ایریا کا خیال دم توڑ گیا، ایف بی ایریا موجود رہا مگر خالی علاقہ رکھنے کی ضرورت نہیں رہی اور بفرزون میں تعمیرات شروع ہوگئی۔

اب ایف بی ایریا اور نارتھ ناظم آباد کے درمیان کا علاقہ بفر زون کہلاتا ہے۔

کریلا موڑ

اب یہ نام رکھنے کی آپ کے خیال میں کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ اگر معلوم نہیں تو  جان لیں کہ کریلوں کی کاشت کا اس سے کچھ لینا دینا نہیں بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر ایک سبزی فروش کام کرتا تھا جسے کریلا کہہ کر تنگ کیا جاتا تھا اور اس طرح یہ بتدریج کریلا موڑ ہی کہلانے لگا۔

بھینس کالونی

بھینس کالونی کا ایک منظر / فائل فوٹو
بھینس کالونی کا ایک منظر / فائل فوٹو

اس علاقے کا نام بھینسوں کے باڑوں کی وجہ سے رکھا گیا کیونکہ اس کے علاوہ اس کا کوئی اور نام کسی کے ذہن میں آتا ہی نہیں۔

انڈہ موڑ

یہاں انڈے نہیں ملتے تھے بلکہ یہ نام بس کنڈیکٹروں کا دیا ہوا  ہے۔

اس مقام پر جب بسیں گزرنا شروع ہوئیں اور لوگ وہاں اترنے لگے تو تو وہاں موجود موڑ کے انڈے جیسی یا بیضوی شکل کو دیکھ کر کسی کنڈیکٹر نے اسے انڈہ موڑ کہنا شروع کردیا اور اب یہی اس کا نام بن چکا ہے۔

گرو مندر

گرومندر چورنگی پر عید میلاد النبی کے موقع پر سجاوٹ / اے پی پی فوٹو
گرومندر چورنگی پر عید میلاد النبی کے موقع پر سجاوٹ / اے پی پی فوٹو

اس نام کی وجہ وہاں موجود گر مندر کی وجہ سے پڑا جس کو اب تلاش کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ اس عمارت کو کوئی استعمال نہیں کرتا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کسی زمانے میں گوردوارہ تھا مندر نہیں، مگر اب بھی اس علاقے کو گرو مندر کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔

خاموش کالونی

اس جگہ میں خاموشی تو بالکل نہیں مگر ایک زمانہ تھا جب یہاں دیگر علاقوں جیسی چہل پہل نہیں تھی اور اس وجہ سے یہ ویران محسوس ہوتی تھی، جس کو دیکھتے ہوئے پتا نہیں کس نے اسے خاموش کالونی قرار دیا اور زبان زد عام ہوگیا۔

مچھر کالونی

مچھر کالونی کا ایک منظر / فائل فوٹو
مچھر کالونی کا ایک منظر / فائل فوٹو

یہ نام مچھروں کی بہتات کی وجہ سے نہیں رکھا گیا بلکہ اس کا نام تو کسی زمانے میں مچھیرا کالونی تھا جو پتا نہیں کیسے چھوٹا ہوکر مچھر کالونی کی شکل اختیار کرگیا۔

گیدڑ کالونی

لانڈھی کے اس علاقے کا سرکاری نام تو مظفر آباد ہے مگر ایک زمانے میں یہاں گیڈر بہت زیادہ ہوتے تھے اور اسی لیے اب بھی بیشتر افراد گیدڑ کالونی ہی کہتے ہیں۔

نمائش

نمائش چورنگی کا ایک منظر / پینٹریسٹ فوٹو
نمائش چورنگی کا ایک منظر / پینٹریسٹ فوٹو

یہاں کسی چیز کی نمائش نہیں ہوتی تو پھر اس کا یہ نام کیوں رکھا گیا؟ تو اس کے لیے 1950 میں جانا ہوگا جب شاہ ایران پاکستان کے دورے پر آئے اور ان کے استقبال کے لیے بندر روڈ (اب ایم اے جناح روڈ) کو سجایا گیا مگر اس کی واحد چورنگی پر بڑے استقبالیہ دروازے لگائے گئے۔

اس دورے کے بعد بھی چورنگی کو پرکشش رکھنے کے لیے وہاں پھولوں کو لگایا گیا جبکہ ایک مصنوعی پہاڑی بنائی گئی جس پر آبشار تھی، اسی طرح متعدد پھیری والے بھی یہاں جمع ہوگئے۔

پھر وہاں ایک میلے یا نمائش کا انعقاد ہوا جسے لکی ایرانی سرکس کا نام دیا گیا جس کو بہت زیادہ مقبولیت ملی اور اس کے بعد چورنگی کے بس اسٹاپ کو نمائش کہا جانے لگا، اب اس اسٹاپ کی جگہ کو پرانی نمائش بھی کہا جاتا ہے مگر علاقہ نمائش کے نام سے ہی مشہور ہوگیا۔