نوجوان نے دستاویزی فلم کیلئے کارٹون میں دیکھی شارک آبدوز بناڈالی

1

شارک پر نئی دستاویزی فلم بنانے کے لیے فرانسیسی نوجوان نے کارٹون میں دیکھے آئیڈیا کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔

شارک کے ساتھ پنجرے میں غوطہ لگانے کے لیے انتہائی ہمت کی ضرورت ہوتی ہے لیکن انکی عکس بندی کی کوشش کرنا بنیادی طور پر کسی خودکشی سے کم نہیں۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سمندر کے ماہر فیبین کوسٹیو نے شارک کی ایک نئی دستاویزی فلم بنانے کے لیے رابطہ کیا اور ٹنٹن کارٹون سے متاثر ہوکر (شارک آبدوز) بنانے کا ارادہ کیا۔

نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں بتایا کہ یہ ایک اچھا آئیڈیا تھا جبکہ شارکوں کے حقیقی رویوں کی آج تک عکس بندی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ شارک کا رویہ ان کا مشاہدہ کرنے کیلئے عام طور پر پنجرے کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے انکے فطری رویے کی نمائندگی نہیں ہوپاتی۔

فیبین نے اپنے خواب کو حقیقت بنانے کا ارادہ کیا اور واقعی ایک خوفناک آبدوز ڈیزائن کی جس کا نام اس نے ٹرائے رکھا، انہوں نے اسکے پیٹ کے اندر، مکمل ڈائیونگ گیئر میں نقل و حرکت کرنے اور سمندر میں شارک کے درمیان رہنے کے قابل تھی۔

ٹرائے کے اندر شارکوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے خفیہ کیمرے جبکہ ایک لائیو مانیٹر بھی نصب تھا۔

2

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹیم کو جو فوٹیج ملی اس نے پہلی بار دنیا کو دکھایا کہ گریٹ وائٹ شارک کا رویہ ایسا نہیں تھا جیسا آج تک دکھایا گیا ہے۔

ٹرائے کی کامیابی کے باوجود اس کی تخلیق پر 200,000 یورو جبکہ 14 فٹ لمبی فائبر گلاس شارک کے اندر حیرت انگیز طور پائلٹ موجود تھا۔

Leave a Comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔