دنیا کے دوسرے طویل ترین دریا پر ایک بھی پل کیوں موجود نہیں؟

یہ دریا برازیل، پیرو اور کولمبیا میں بہتا ہے / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا
یہ دریا برازیل، پیرو اور کولمبیا میں بہتا ہے / فوٹو بشکریہ وکی پیڈیا

دریائے ایمازون حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جبکہ لمبائی کے لحاظ سے دوسرا سب سے بڑا دریا ہے۔

یہ افریقا کے دریائے نیل کے بعد دنیا کا دوسرا طویل ترین دریا ہے۔

لاطینی امریکی ممالک پیرو، کولمبیا اور برازیل میں بہنے والے اس دریا کے ارگرد 3 کروڑ سے زیادہ افراد رہائش پذیر ہیں مگر حیران کن طور پر اس پر ایک بھی کراسنگ پل موجود نہیں۔

4300 میل لمبے اس دریا پر ایک بھی پل موجود نہیں جبکہ دنیا کے سب سے لمبے دریائے نیل پر صرف قاہرہ میں ہی 9 برج موجود ہیں۔

دنیا کے تیسرے اور ایشیا کے سب سے بڑے دریائے یانگتیز پر گزشتہ 30 برسوں کے دوران 100 سے زیادہ پلوں کی تعمیر مکمل ہوئی اور یورپ کے دریائے ڈینیوب، جس کی لمبائی ایمازون کے مقابلے میں محض ایک تہائی ہے، پر 133 کراسنگ برج موجود ہیں۔

تو آخر دنیا کے دوسرے طویل ترین دریا پر کوئی پل تعمیر کیوں نہیں ہوا؟

اس بات کا جواب سادہ نہیں بلکہ کافی حد تک پیچیدہ ہے کیونکہ اس کے لیے متعدد عناصر کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔

سوئس فیڈرل انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ اسٹرکچرل انجنیئرنگ کے سربراہ والٹر کوفمان کے مطابق بنیادی طور پر ایمازون پر کسی کراسنگ پل کی کوئی خاص ضرورت نہیں۔

اس دریا کے ارگرد موجود بیشتر آبادیاں زیادہ ترقی یافتہ نہیں تو وہاں بڑی سڑکیں بھی بہت کم ہیں۔

اسی طرح دریا کے کنارے آباد شہروں اور قصبوں میں سامان کی ترسیل کشتیوں کے ذریعے ہوتی ہے اور وہی لوگوں کو ایک سے دوسرے کنارے بھی پہنچاتی ہیں، تو وہاں پل تعمیر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

اس کے ساتھ ساتھ پلوں کی تعمیر کے حوالے سے تیکنیکی اور لاجسٹک مسائل بہت زیادہ ہیں۔

والٹر کوفمان نے بتایا کہ یہ دریا پلوں کی تعمیر کے لیے زیادہ مثالی نہیں، بلکہ ایسے کسی منصوبے کے لیے تعمیراتی عملے کو متعدد مسائل کو حل کرنا ہوگا۔

مثال کے طور پر دریا کے ارگرد جھاڑیاں اور نرم سطح کے باعث کئی منزلوں پر مشتمل پل تعمیر کرنے کی ضرورت ہوگی جس کی بنیاد بہت زیادہ گہرائی میں رکھنا ہوگی۔

اس کے لیے بہت زیادہ سرمایہ درکار ہوگا جبکہ یہ دریا مختلف موسموں میں اپنے راستے کو بھی بدلتا ہے اور  پانی کی سطح سال بھر کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔

والٹر کوفمان نے بتایا کہ ویسےتو اس طرح کے مسائل صرف ایمازون تک ہی محدود نہیں مگر یہاں ان کی شدت بہت زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دریا کا ماحول دنیا میں تعمیر کے حوالے سے سب سے زیادہ مشکل ہے، کیونکہ موسم کے لحاظ سے دریا کا بہاؤ بدلتا رہتا ہے۔

مثال کے طور پر جون سے نومبر کے دوران خشک موسم میں دریا کی اوسط چوڑائی 2 سے 6 میل ہوتی ہے جبکہ دسمبر سے اپریل کے دوران یہ چوڑائی 30 میل بھی ہوجاتی ہے اور پانی کی گہرائی خشک موسم کے مقابلے میں 50 فٹ زیادہ ہوتی ہے۔

ویسے برازیل کے صدر جیئر بولسونیرو نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ وہ اس دریا پر پل تعمیر کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے بعد کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔

تو مستقبل قریب میں دنیا کے دوسرے طویل ترین دریا پر کسی پل کی تعمیر کا امکان نہیں، ایسا اسی صورت میں ہوسکے گا جب اس خطے میں اقتصادی ترقی کی شرح بہت زیادہ ہوجائے۔