دنیا کا سب سے قدیم درخت دریافت

یہ چلی کے ایک نیشنل پارک میں موجود ہے / فوٹو بشکریہ ڈاکٹر جوناتھن باریوچ
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ دنیا کے قدیم ترین درخت کی عمر کیا ہوسکتی ہے؟

جواب مشکل ہے تو جان لیں کہ لاطینی امریکی ملک چلی میں ایک ایسے درخت کو دریافت کیا گیا ہے جس کی عمر دنگ کردینے والی ہے۔

چلی کے ایلریس کوسٹیرو نیشنل پارک میں واقع Patagonian Cypress قسم کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم درخت سمجھا جارہا ہے۔

ابتدائی تخمینے کے مطابق اس درخت کی عمر 5400 سال سے زیادہ ہوسکتی ہے اور اسی وجہ سے اسے گریٹ گرینڈ پا کا نام بھی دیا گیا ہے۔

اگر اس عمر کی تصدیق ہوجاتی ہے تو یہ کیلیفورنیا میں موجود پائن کے ایک درخت سے قدیم ترین ہونے کا اعزاز چھین لے گا جس کی عمر 4853 سال کے قریب بتائی جاتی ہے۔

Patagonian Cypress قسم کے درخت چلی اور ارجنٹینا میں ہی پائے جاتے ہیں جو 70 میٹر تک بلند اور 5 میٹر تک چوڑے ہوسکتے ہیں۔

مگر چلی میں اس قسم کے درختوں کو بقا کا خطرہ لاحق ہے جس کی وجہ درختوں کی کٹائی اور اس علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں ہیں۔

پیرس کی کلائمٹ اینڈ انوائرمنٹل لیبارٹری کے سائنسدان ڈاکٹر جوناتھن باریوچ نے حال ہی میں اس قدیم ترین درخت کی عمر کا تخمینہ لگایا تھا۔

اس مقصد کے لیے انہوں نے 2020ء کے شروع میں ایک خصوصی ڈرل سے نمونے لیے تھے۔

عموماً کسی درخت کی عمر کا اندازہ اس کے تنے پر موجود رِنگز کی تعداد سے لگایا جاتا ہے، یعنی ہر سال ایک رِنگ بن جاتا ہے۔

مگر چلی کے درخت کے بڑے حجم کے باعث اس طریقہ کار پر عمل کرنا ممکن نہیں تھا۔

ڈاکٹر جوناتھن نے بتایا کہ اس طرح کے بڑے درخت میں رنگ کے ذریعے عمر کا تعین کرنا ممکن نہیں، مگر اس سائنسی مسئلے پر اب قابو پالیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے تخمینے کے مطابق یہ درخت 5484 سال پرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں 80 فیصد تک یقین ہے کہ اس کی عمر 5 ہزار سے سال زیادہ ہے اور ممکنہ طور پر یہ 5484 سال پرانا ہے۔

ابھی اس تحقیق کے نتائج کسی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور متعدد سائنسدان تحقیق کے مکمل نتائج کے منتظر ہیں۔