دنیا کا سب سے بڑا کلون: آسٹریلوی گھاس 180 کلومیٹر تک پھیل گئی

آسٹریلیا کے علاقے شارک بے میں پائی جانے والی سمندری گھاس کو دنیا کا سب سے بڑا کلون قرار دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا کے علاقے شارک بے میں پائی جانے والی سمندری گھاس کو دنیا کا سب سے بڑا کلون قرار دیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل

آسٹریلیا: آسٹریلوی مغربی ساحلوں پر گھاس نے خود کو تیزی سے کلون کرنا شروع کیا ہے اور اب سمندری گھاس 180 کلومیٹر تک پھیل گئی ہے۔ اس طرح یکساں جینیاتی خواص اور رنگت والی دنیا کی سب سے بڑی کلون شدہ گھاس میں تبدیل ہوچکی ہے۔

قددرت کے کارخانے میں بہت سے پودے خود کو کلون کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن اب سمندری گھاس کا یہ ٹکڑا زمین پر سب سے بڑا کلون بھی قرار پایا ہے۔

یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کی سائنسداں ایلزبتھ سن کلیئر کہتی ہیں کہ یہ سمندری گھاس پوزائیڈن رِبن ویڈ کہلاتی ہے جس کا حیاتیاتی نام Posidonia australis ہے۔ انہوں 180 کلومیٹر پر پھیلے ہوئے سمندری گھاس کے دس نمونے لیے اور ان میں سے نو نمونے جینیاتی اور ظاہری طور پر بالکل یکساں تھے۔

خیال ہے کہ گھاس ایک کنارے سے کلون ہونا شروع ہوئی اور دوسری جگہ جا پہنچی اور یوں دنیا کا سب سے بڑا زندہ جسم کلوننگ سے وجود پذیر ہوا۔ خیال ہے کہ اس پودے کی عمر 4500 سال ہے اور انسانی مداخلت سے محفوظ ہونے کی بنا پر اس کی نشوونما بہت تیزی سے ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ایلزبتھ نے کہا ہے کہ کلون ہونے والے پودے عموماً بہت سخت جان نہیں ہوتے اور وہ بدلتے حالات کے تحت خود کو تبدیل نہیں کرسکتے جبکہ جنسی طور پر دیگر انواع سے ملاپ کرکے اپنی نسل پڑھانے والے پودے ارتقائی طور پر بہت بہتر ہوتے ہیں۔