امریکی شہر مین ہٹن سے 3 گنا بڑا دنیا کا سب سے بڑا پودا کہاں ہے؟

سائنسدانوں کے مطابق آسٹریلیا کے ساحل پر زیر آب پایا جانے والا پودا تقریباً 45 ہزار برس پرانا ہے۔ فوٹو بشکریہ ریکل آسٹن
سائنسدانوں کے مطابق آسٹریلیا کے ساحل پر زیر آب پایا جانے والا پودا تقریباً 45 ہزار برس پرانا ہے۔ فوٹو بشکریہ ریکل آسٹن

آسٹریلیا کے ساحل پر دنیا کا سب سے بڑا پودا دریافت ہوا ہے جس کا پھیلاؤ امریکی شہر مین ہٹن کے رقب سے 3 گنا زیادہ ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنسدانوں نے جینیٹک ٹیسٹنگ کے بعد مشرقی آسٹریلیا کے ساحل پر کو زیر آب ’سمندری گھاس‘کو دنیا میں موجود سب سے بڑا پودا قرار دیا۔

یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ آسٹریلیا کے ساحل پر پایا جانے والا پودا ایک ہی بیج سے تقریباً ساڑھے 4 ہزار سالوں سے پھل پھول رہا ہے۔

ویسٹرن آسٹریلیا یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ ’سی گراس‘ 200 اسکوائر کلو میٹر (77 میل) کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔

سمندری پودے عموماً ایک سال میں 35 سینٹی میٹر تک بڑے ہوتے ہیں۔ فوٹو بشکریہ اینجلا روسن
سمندری پودے عموماً ایک سال میں 35 سینٹی میٹر تک بڑے ہوتے ہیں۔ فوٹو بشکریہ اینجلا روسن

محقیقین نے بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی سی گراس کا جائزہ لینے کے لیے 18000 نمونے جمع کیے جس کا مقصد تھا کہ پتہ لگایا جا سکے کہ یہ کتنے پودے ہیں۔

تحقیق کے مرکزی محقق جین ایج لوئے کا کہنا ہے کہ جب پودے کے جینیاتی تجزیے کے نتائج سامنے آئے تو وہ حیران کن تھے کہ یہ ایک ہی پودا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک پودا 180 کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے جو دنیا کا سب سے بڑا پودا ہے۔ اس کے علاوہ پودا انتہائی سخت جان ہے کیونکہ یہ انتہائی مشکل موسم اور زمین ہونے کے باوجود پرورش پاتا رہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سمندری پودے عموماً ایک سال میں 35 سینٹی میٹر تک بڑے ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا کہ یہ پودا 45 ہزار سال سے پرورش پا رہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ پودے کا پھیلاؤ امریکی ریاست نیو یارک کے شہر مین ہٹن، جس کا رقبہ 59 اعشاریہ ایک اسکوائر کلو میٹر ہے، سے 3 گنا بڑا ہے اور یہ رقبہ 20 ہزار فٹبال فیلڈز کے برابر بنتا ہے۔