دال کے دانے جتنا زندہ، مصنوعی اور دھڑکتا دل

ویانا، آسٹریا کے سائنسدانوں نے زندہ انسانی خلیوں پر مشتمل، ایک ایسا ننھا منا مصنوعی دل تیار کیا ہے جس کی جسامت دال کے ایک دانے جتنی ہے اور وہ دھڑکتا بھی ہے۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی زندہ انسانی خلیات پر مشتمل، چھوٹے چھوٹے مصنوعی دل بنائے جاچکے ہیں لیکن مذکورہ پیش رفت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مصنوعی دل کے خلیوں نے اپنے آپ کو خود ہی ترتیب دے کر یہ شکل اختیار کی اور دھڑکنا بھی شروع کردیا۔

اس سے پہلے تک تجرباتی طور پر جتنے بھی مصنوعی دل سمیت جتنے بھی ننھے ننھے اعضاء بنائے گئے، ان میں زندہ خلیوں کو مطلوبہ ساخت والے حیاتی کیمیائی سانچوں (scaffolds) میں رکھ کر ان کی تعداد بڑھائی جاتی تھی، یہاں تک کہ وہ سانچے والی شکل اختیار کرلیتے جبکہ سانچہ تشکیل دینے والا مادّہ تحلیل ہو کر ختم ہوجاتا۔

آسٹریا کے ماہرین نے اس مقصد کےلیے ہر فن مولا ’’خلیاتِ ساق‘‘ (Stem Cells) استعمال کیے جبکہ کچھ مخصوص حیاتی کیمیائی تعاملات (بایوکیمیکل ری ایکشنز) سے استفادہ کیا گیا جنہیں ’’پاتھ ویز‘‘ کے تکنیکی نام سے جانا جاتا ہے۔

ان پاتھ ویز نے خلیاتِ ساق کو اس قابل بنایا کہ وہ تقسیم اور تبدیل ہو کر، ازخود ترتیب پائیں اور ننھے منے، دھڑکتے ہوئے دل میں تبدیل ہوسکیں۔

یہ طریقہ اس سے پہلے تجرباتی طور پر چھوٹی چھوٹی آنکھوں اور دماغ کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاچکا ہے۔

البتہ، حالیہ تجربات میں بطورِ خاص اُن پاتھ ویز کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے ذریعے خلیاتِ ساق میں تقسیم کے ساتھ ساتھ تبدیلی بھی واقع ہوتی ہے تاکہ وہ کسی خاص عضو کو فعال بنانے والے خلیوں میں بدل سکیں۔

واضح رہے کہ دل وہ پہلا انسانی عضو ہے جو حمل ٹھہرنے کے بعد نہ صرف وجود میں آتا ہے بلکہ اپنا کام بھی سب سے پہلے کرنا شروع کردیتا ہے۔

رحمِ مادر میں دل کی تشکیل 18ویں سے 19ویں دن میں شروع ہوجاتی ہے جو حمل کے تقریباً 22ویں ہفتے دھڑکنا اور خون پمپ کرنا بھی شروع کردیتا ہے۔

نوٹ: آسٹریائی ماہرین کی یہ تحقیق ریسرچ جرنل ’’سیل‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو