خیبر پختونخواہ میں لاک ڈاﺅن اور 13لاکھ افراد بے روزگار ہونے کا خطرہ

خیبر پختونخوا کے محکمہ ترقیات اور منصوبہ بندی نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 45 روزہ لاک ڈاون میں 13لاکھ افراد نوکریوں سے محروم وہ سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ نقصان ٹرانسپورٹ اور اسٹوریج کے شعبے میں ہونے کا اندیشہ ہے جہاں 3لاکھ 59ہزار 393افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے، دیہاڑی دار افراد اور گلیوں محلوں میں اشیا فروخت کرنے والے افراد کے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے ساڑھے 4 لاکھ سے زائد دیہاڑی دار افراد فوری بیروزگار ہو سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ تعمیرات، مینوفیکچرنگ اور ہول سیل کے شعبے میں انتہائی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جس میں بالترتیب 2لاکھ 95ہزار 594، 2لاکھ 58ہزار 664 اور 2لاکھ 16ہزار 252 افراد کے نوکریوں سے محوم ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ اگر لاک ڈاون میں توسیع کی جاتی ہے تو مزید افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ ہے، اگر لاک ڈاؤن میں 6 ماہ کی توسیع کی گئی تو 27لاکھ افراد نوکریوں سے محروم ہو سکتے ہیں اور اگر ایک سال تک لاک ڈاون برقرار رہا تو 42لاکھ افراد بیروزگار ہو جائیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو