خونی سپر فل مون آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں نمایاں

چاند زمین سے قریب ہونے کے باعث اسے سپر فل مون کا نام دیا گیا ہے۔ تاہم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے لوگوں نے اسے بہت انداز میں دیکھا۔

گرہن کے دوران 14 منٹ کے لیے چاند سرخ رنگ کا نظر آئے گا جس کے باعث اس چاند گرہن کو ’سپر فلاور بلڈ مون ‘بھی کہا جارہا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ چاند اس وقت معمول سے بڑا بھی دیکھائی دے رہا ہے۔

پاکستانی وقت کے مطابق چاند گرہن کا آغاز دن میں ایک بج کر 48 منٹ پر ہوا جبکہ مکمل چاند گرہن 4 بج کر 11 منٹ پر ہوا اور اختتام شام 6 بج کر 5 منٹ پہ ہوگیا۔

چاند گرہن پاکستان میں دن ہونے کے باعث دکھائی نہیں دے گا جبکہ اس کا نظارہ آسٹریلیا، ہانگ کانگ اور ٹوکیو سمیت مختلف شہروں میں کیا جاسکے گا۔

بتاتے چلیں کہ ’’سپر مُون‘‘ تب ہوتا ہے جب چاند کا فاصلہ زمین سے نسبتاً کم ہو جس کی وجہ سے وہ (زمین سے دیکھنے پر) وہ نہ صرف مکمل بلکہ ظاہری طور پر معمول سے بڑا بھی نظر آئے۔ (چاند اور زمین کا اوسط درمیانی فاصلہ 3 لاکھ 84 ہزار 400 کلومیٹر ہے۔)

26 مئی والے چاند گرہن کا معاملہ بھی یہی ہوگا کیونکہ اس روز چاند اور زمین کا درمیانی فاصلہ، اوسط فاصلے سے لگ بھگ 26 ہزار کلومیٹر کم (تقریباً 3 لاکھ 58 ہزار کلومیٹر) ہوگا۔ اسے ’’خونی چاند گرہن‘‘ کہنے کی وجہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔

اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ چاند کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہوتی بلکہ یہ سورج کی روشنی منعکس کرتا ہے اور ہمیں چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب سورج کی روشنی سات رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے جو آپس میں مل کر سفید روشنی بناتے ہیں۔

چاند گرہن کے دوران بعض مواقع پر سورج کی روشنی، زمینی کرہ ہوائی سے ٹکرا کر منتشر ہوتی ہے اور چاند تک پہنچتی ہے لیکن زمینی کرہ ہوائی قدرتی طور پر نیلی روشنی جذب کرتا ہے۔

نتیجتاً گرہن کے دوران چاند کی سطح تک پہنچنے والی روشنی میں سرخ رنگ غالب ہوتا ہے۔

لہذا جب چاند کی سطح سے وہ روشنی منعکس ہو کر زمین پر آتی ہے تو ہمیں چاند گرہن کے دوران چاند کی رنگت بھی سرخی مائل دکھائی دیتی ہے۔

یہی وہ کیفیت ہے جسے ’’خونی چاند‘‘ کہا جاتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو