خطبہ حجۃ الوداع، عالمی امن کا ابدی نسخہ

بنی نوع انسان کی تعظیم و تکریم، حرمت و حقوق کو تسلیم کرنا ہی دراصل دنیا میں آزادی، انصاف اور امن کی بنیاد ہے۔

انسانی حقوق کی پامالی اور بے حرمتی ایسے ردعمل کا باعث بن جایا کرتی ہے جس سے امن کی فاختہ کے اڑنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ دور کی بات نہیں، ہم ماضی قریب میں ہی دیکھ چکے ہیں کہ جب انسانی حقوق کی پامالی اور بے حرمتی کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں آگ برستی رہی اور انسانی خون اچھلتا رہا، اس آگ کو بجھانے کے لیے چند سو، ہزار نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے لہو کی قربانیاں دینا پڑیں۔

روئے زمین پر بسنے والے عام انسانوں کی بلند ترین آرزو یہ رہی ہے کہ ایسی دنیا وجود میں آئے جس میں تمام انسانوں کو اپنی بات کہنے اور اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی حاصل ہو اور خوف اور احتیاج سے محفوظ رہیں۔ ہر انسان کی یہ خواہش ہے کہ انسانی حقوق کوکسی نہ کسی ضابطے کے تحت محفوظ کیا جائے تاکہ کوئی بھی انسان عاجز آ کر جبر اور استبداد کے خلاف بغاوت کرنے پر مجبور نہ ہو۔ ہر انسان کی خواہش ہے کہ قوموں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بڑھایا جائے تاکہ نفرتوں کا خاتمہ ہو اور دنیا محبت، اخوت اور رواداری کا خوبصورت گلدستہ نظر آئے۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے اقوام عالم ایڑیاں رگڑ رگڑ کر تھک چکی ہیں، بیشمار فارمولے پیش کیے گئے، بہت سے چارٹر اپنائے گئے، عالمی سطح پر نت نئے قوانین بنائے گئے لیکن مقاصد حاصل نہیں ہوسکے۔

حج بیت ﷲ ہمیں انسانی حقوق کے اس عالمگیر چارٹر کا پتا دیتا ہے جو اﷲ کے صادق ومصدوق، محبوب پیغمبرخاتم النبیین والمرسلین والمعصومین نبئی اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے 14 سو سال پہلے دس ہجری کو حج مبارک کے موقع پر پیش کر دیا تھا، دنیا اسے خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے جانتی ہے لیکن میں اسے عالمی امن کے ابدی نسخے کے طور پر دیکھتا ہوں کیونکہ آج بھی انسانی حقوق کا شعور اسلام کی عطا کردہ آگہی اور تکریم کا رہین منت ہے۔

مغرب کے بڑے بڑے دانشور اور مفکر بھی اس بات کو تسلیم کرچکے ہیں کہ یورپ کی حقیقی نشاۃ ثانیہ پندرہویں صدی میں نہیں بلکہ مسلمانوں کی احیائے ثقافت کی جدو جہد کے زیراثر وجود میں آئی جو محمد عربی صلی اﷲ علیہ وسلم کے غلام تھے، یورپ کی نشاۃ نو کا مرکز اٹلی نہیں ہسپانیہ تھا۔

وہ زمانہ جب مغرب جہالت و تنزلی کی تاریکیوں کا شکار تھا اس وقت اسلامی دنیا کے شہر بغداد، قاہرہ، قرطبہ، اور طلیطلہ تہذیب و تمدن اور علمی و فکری ترقی کے عالمی مراکز بن چکے تھے، اسی ترقی نے آگے چل کر انسانی ارتقاء کی وہ صورت اپنا لی جہاں بنی نوع انسان نے ہر اس رسم و رواج اور تہذیبی و تمدنی روایت کو ترک کردیا جو انسانی تکریم کے منافی اور انسانی حقوق کی پامالی پر مشتمل تھی۔اسلام کا یہ عروج اور دنیا کی تعمیر و ترقی نبئی اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کی تعلیمات کا صدقہ تھی اور اس کی بنیاد وہی خطبہ حجۃ الوداع ہے جسے میں عالمی امن کا ابدی نسخہ مانتا ہوں۔

نبئی اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم عرفات کے میدان میں کھڑے ہیں اور حج کے لیے آنے والے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین سے مخاطب ہیں، حمد و ثنا کے بعد آپ فرما رہے ہیں ’’لوگو! میری بات سنو، میں جانتا ہوں نہیں کہ شاید اس سال کے بعد اس جگہ میں تم سے کبھی نہ ملوں۔

لوگو! سن لو، تمہارے خون، تمہارے اموال ایک دوسرے پر اپنے رب سے ملنے تک اسی طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے لیے یہ دن اور یہ مہینہ قابل احترام ہے اور دیکھو عنقریب اپنے رب سے ملو گے، وہ تم سے تمہارے اعمال کے متعلق سوال کرے گا، اور میں ہر عمل کے متعلق تمام احکام تم تک پہنچا چکا ہوں پس جس کے پاس امانت ہو، اسے چاہیے کہ وہ اس امانت کو مانگنے پر اسی شخص کے حوالے کردے جس نے امانت دار سمجھ کر رکھی تھی۔ سنو! ہر قسم کے سود کو ساقط کردیا گیا البتہ اصل مال تمہارے لیے ہیں، نہ تم زیادتی کروگے اور نہ تمہارے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔ جاہلیت میں اسلام لانے سے پہلے جو بھی خون تھا وہ بھی ختم کردیا گیا، اب اس کا انتقام نہیں لیا جائے گا۔

اے لوگو! تم سب کا رب ایک ہے اور تم سب کا باپ ایک ہے، کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی برتری نہیں، نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر کوئی فوقیت ہے، کسی کالے کو کسی گورے پر اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی برتری ہے، سوائے تقویٰ کے۔ بیشک تم سب میں سے اﷲ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔

لوگو! سنو، اﷲ تعالیٰ سے عورتوں کے معاملے میں ڈرو، اس لیے کہ تم انھیں اﷲ تعالی کی امان میں لیا ہے۔ میں تمہارے بیچ ایسی چیزیعنی اﷲ کی کتاب چھوڑ جاتا ہوں اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو تو اس کے بعد گمراہ نہیں ہوگے۔

سنو! کیا میں نے تم تک دعوت حق کی بات پہنچا دی؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں یا رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس موقع پر کہا، جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ اس کو ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں۔’’ یہ ہیں خطبہ حجۃ الوداع کے اقتباسات، جو عالمی امن کا ضامن ہے۔

نبئی اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم نے انسانیت کو بنیادی حقوق کا تصور عطا کرنے کے لیے جس عظیم مشن کا آغاز معاہدہ حلف الفضول (قریش اور بنی قیس کے باہمی جھگڑوں کے خاتمے کے لیے ہونے والا معاہدہ جس میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے بنفس نفیس شرکت کی تھی اور اس وقت آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی عمر مبارک بیس سال تھی، عام طور پر سیرت نگاروں نے اس مہتم بالشان اتحاد کا ذکر سرسری طور پر کیا ہے حالانکہ یہ معاہدہ عرب بالخصوص مکہ مکرمہ کے اس دور کی روایتی معاشرتی زندگی میں انقلاب کا نقطء آغاز تھا) سے کیا تھا، وہ مختلف مراحل سے گزرتا ہوا حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔

اسی لیے نبئی اقدس صلی ﷲ علیہ وسلم کے آخری خطبہ حج کو انسانی حقوق کا اولین اور ابدی منشور کہا جاتا ہے کیونکہ اسی خطبہ میں جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کا حق دیا گیا ہے، اسی خطبہ میں اولاد کے تحفظ کا حق دیا گیا ہے، امانت کی ادائیگی کا تحفظ دیا گیا ہے، قرض کی وصولی کا تحفظ بھی اسی خطبہ میں شامل ہے، اسی میں جائیداد کے تحفظ کا حق ہے، سود اور اقتصادی استحصال کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ پرامن زندگی کی ضمانت دی گئی ہے، اسی خطبہ میں منصب و عزت نفس کا تحفظ دیا گیا ہے، عورتوں کے حقوق کا تحفظ بیان کیا گیا ہے، اسی میں غلاموں کے حقوق کا تحفظ شامل ہے۔ یہی وہ روشنی ہے آج دنیا جس کی متلاشی ہے، اسے اپنا کر دنیا کو امن کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو