خدشہ ہے بھاشا ڈیم دوسرا نیلم جہلم بن کر معیشت کو نہ کھا جائے: احسن اقبال

 

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کہیں دیامر  بھاشا ڈیم دوسرا نیلم جہلم بن کر ملک کی معیشت کو کھا جائے گا۔

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم پر کام شروع ہونا خوشی کی بات ہے مگر خدشہ ہے کہ بھاشا ڈیم دوسرا نیلم جہلم بن کر معیشت کو نہ کھا جائے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ڈیم کے لیے پی ایس ڈی پی میں صرف 16 ارب روپے رکھے جو طے رقم سے بھی 12 ارب روپے کم ہیں اس لیے ہمیں خدشہ ہے کہ بھاشا ڈیم منصوبے کی فنانشل کلوزنگ نہیں کی گئی۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم منصوبےکی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں، مگر تحفظات ہیں کہ یہ منصوبہ مکمل نہیں کر سکیں گے۔

ن لیگی رہنما نے بتایا کہ ہم نے بھاشا ڈیم کے لیے 124 ارب روپے سے زمین حاصل کی تھی  اور  28 ارب ڈالر کے منصوبے بغیر سی پیک اتھارٹی کے بنائے، یہاں تک کہ ن لیگ کے دورمیں ترقیاتی بجٹ 1 ہزار ارب تھا، اب ساڑھے 5 سو ارب روپے ہے۔

احسن اقبال نے وزیراعظم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کپتان کے وژن نے ملک کا جو حال کیا وہ سب کے سامنے ہے، حکومت دانستہ قومی اداروں کو ہر چیز میں دھکیل رہی ہے جب کہ قومی اداروں کو بھی احساس کرنا چاہیے کہ ان کے لیے صرف زندہ باد ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک اتھارٹی کے آرڈیننس کی میعاد ختم ہو چکی، اتھارٹی خلا کے اندر ہے، یہ نئے مسودے سے اتھارٹی کو وزیراعظم سے بھی بااختیار بنانا چاہتے ہیں۔

نئی مسلم لیگ بنانے سے متعلق احسن اقبال نے کہا کہ نئی مسلم لیگ بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکتیں، ن لیگ صرف نواز شریف کے نظریے پر قائم ہے اور صرف مسلم لیگ ن کے پاس ایسی اقتصادی ٹیم ہے جو ڈیلیور کر سکتی ہے۔

انہوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے شفاف الیکشن کروا کے عوامی نمائندہ اہل حکومت لائی جائے، اب نئے انتخابات کے علاوہ دیگر آپشن غیر حقیقی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو