خانہ کعبہ کے گِرد کھڑی کی گئیں حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ

رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی حرمین شریفین کی انتظامیہ نے کعبہ شریف کے گِرد کھڑی کی گئیں حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ رکاوٹیں گزشتہ ماہ کھڑی کی گئی تھیں۔

سعودی حکام نے مسجد الحرام میں کعبہ شریف کے ارد گرد گذشتہ ماہ کورونا وائرس سے بچاوٴ کے لیے کھڑی کی گئیں حفاظتی رکاوٹیں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
الحرمین الشریفین کے انتظام وانصرام کی ذمے دار جنرل پریذیڈینسی کے صدر الشیخ ڈاکٹر عبدالرحمان بن عبدالعزیز السدیس نے جمعرات کو اس فیصلے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ پورے رمضان کے دوران میں مسجد الحرام میں جراثیم کش سپرے کا چھڑکاؤ اور صفائی کا عمل جاری رہے گا۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پریذیڈینسی اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے کے ذریعے کورونا وائرس سے بچاوٴ کے لیے اختیار کردہ حفاظتی اقدامات اور تدابیر اور ان کے موثر ہونے کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور ان کی بنیاد پر ہی رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

انھوں نے یہ فیصلہ سعودی عرب میں رمضان المبارک کا چاند نظر آنے کے بعد کیا ہے۔ سعودی مملکت کے علاوہ بیشتر اسلامی ممالک میں جمعہ کو پہلا روزہ ہے۔ اس وقت مسجد الحرام اور اس کے بیرونی صحنوں میں اس اتھارٹی کے ساڑھے تین ہزار سے زیادہ ملازمین دن رات صفائی ستھرائی کا کام کررہے ہیں اور وہ رمضان میں بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے قبل ازیں بدھ کو مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور مدینہ منورہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں رمضان المبارک کے دوران میں نماز تراویح کی بیس کے بجائے دس رکعت ادا کرنے کی منظوری دی تھی۔

مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں عام عبادت گزاروں کے داخلے پربدستور پابندی برقرار رہے گی۔الحرمین الشریفین میں اجتماعی نمازتراویح ادا کی جائے گی مگر دونوں مساجد میں اتھارٹی کے ملازمین اور ورکر ہی نماز تراویح ادا کرسکیں گے۔یہ پانچ تسلیمات تک محدود ہوں گی،دو دو رکعت ادا کی جائیں گی، یعنی صرف دس رکعت نمازادا کی جائیں گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو