خانہ کعبہ کے طواف کی تاریخ

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف وجوہات کی بناء پہ، پہلی بار نہیں بلکہ اکتالیسویں بار بیت اللہ کا طواف بند کیا گیا۔ اس سے قبل مسجد حرام کو مختلف وجوہات جن میں بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچاؤ ، سیاسی وجوہات اور جنگ و جدل بھی شامل ہیں۔ صرف یہ نہیں کہ صرف طواف بند ہوا ہو بلکہ اسلامی تاریخ میں ایسا سال بھی گزرے ہیں جن میں حج کی ادائیگی ہی نہیں ہوئی اور وہ حجاج جو 9 ذی الحج یوم عرفہ کو میدان عرفات پہنچے انہیں بھی حدود عرفات سے باہر نکال دیا گیا.

چند مواقع کی مختصراً وجوہات درج ذیل ہیں.
*(1) 251 ھ یوم عرفہ کے دن لڑائی کے سبب حج کو ہی معطل کردیا گیا اور حج ادا ہی نہیں ہوا.
*(2) 317 ھ مطاف میں قرامطہ کی لڑائی اور حجر اسود کی ڈکیتی کے سبب مطاف بند کردیا گیا.
*(3) 372 ھ خلافت بنی عباس و بنی عبید کے وقت عراق میں فسادات کے سبب مکہ کی حکومت نے عراقیوں کے حج پر مکمل پابندی لگا دی ۔
*(4) 428 ھ صرف مصر سے آنے والے حجاج نے حج ادا کیا باقی مقامات کے حجاج پر پابندی تھی.
*(5) 650 ھ میں دس سال کی پابندی کے بعد پہلی مرتبہ اہالیان بغداد عراق حج ادا کرنے حجاز مقدس آئے.
*(6) 655 ہجری میں اھل حجاز یعنی مکہ و مدینہ و ارد گرد میں بسنے والے تمام مسلمانوں پر حج ادائیگی پر پابندی لگا دی گئی اور اہل حجاز نے حج نہیں کیا.
*(7) 1814 ع میں مکہ اور حجاز میں طاعون کی وباء پھیل گئی اور طاعون کے مرض سے 8 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مسجد حرام کو عبادت کے لئے مکمل بند کردیا گیا تا وقتیکہ طاعون کا مرض مکمل طور پر ختم نہ ہوگیا.
*(8) 1831 ع بموافق 1246ہجری میں ہندوستان سے ایک حاجی وبائی مرض کے ساتھ مکہ آیا جس نے دنیا بھر سے آئے حجاج کو لپیٹ میں لیا اور ٹوٹل حجاج کا ایک تہائی حصہ اس مرض سے وفات پا گیا ۔
*(9) 1837 موسم حج میں ایک شدید قسم کے وائرس نے حملہ کیا وائرس تین سال تک مسلسل حجاز کے لوگوں کو متاثر کرتا رہا 1840 میں جا کر ختم ہوا.
*(10 1845 کورونا وائرس کے بھائی کولیرا وائرس نے حجاج پر حملہ کیا اور پھر* *1850/1865 / 1883 ایام حج میں حجاج پر حملہ آور ہوتا رہا.
*(11) 1858 میں اہالیان حجاز پر شدید وبائی امراض نے حملہ کیا اور اہل حجاز زندگیاں بچانے کے لئے مصر کی طرف ہجرت کرنے اور علاج کرانے پر مجبور ہوئے۔
*(12) 1864 حجاج پر وائرس کی وباء نے حملہ کی اور اس قدر شدید وائرس تھا کہ یومیہ مرنے کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرگئی تھی جس کے ازالے کے لئے مصر سے بڑی تعداد میں اطباء کو بلایا گیا.
*(13) 1892 کولیرا وائرس نے ایک بار پھر موسم حج میں حجاج کو نشانہ بنایا اس مرتبہ وباء نے یوں اموات پھیلائی کہ لوگ اپنے عزیز و اقارب کی لاشوں کو بے کفن و دفن چھوڑ کر بھاگنے لگے میدان عرفات میں گِدھوں کے غول جمع تھے مر جانے والے حجاج کی ہڈیاں مہینوں بعد منٰی کے میدان سے بھی ملتی رہیں.
*(14 ) 1895 میں مدینہ المنورہ سے آئے حجاج ٹائیفائیڈ بخار کا شکار ہوگئے اور کی حالت مکہ پہنچتے اتنی نازک ہوگئی تھی کہ منی تک پہنچ ہی نہیں پائے اس سال منی کا قیام حج کے دوران نہیں ہوا.
*(15) 1987ء میں موسم حج میں حجاج کرام میں ہیضہ کی وباء پھیل گئی اور ہیضہ کے سبب 10000 حجاج فوت ہوگئے اور اس دوران بھی حرم کو وباء سے پاک کرنے کے لئے بند کیا گیا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو