حکومت نے ماہی گیروں کو کاروبار کی اجازت دے دی

حکومت سندھ نے فشریز اور فش ہاربر کو کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سخت ایس او پیز جاری کردیے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایس او پیز میں بتایا گیا ہے کہ فش ہاربراتھارٹی اسٹیک ہولڈرز سے ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لیے حلف نامہ جمع کرے۔

اس ضمن میں سیکریٹری لائیو اسٹاک فشریز نے نیا نوٹی فکیشن جاری کیا جس میں بتایا گیا ہے کہ 12 اپریل کو ناقص انتظامات ہونے کی وجہ سے فشریز کو بند کیا گیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق حفاظتی انتظامات کےساتھ فشریز کو کھولنے کی اجازت دی جارہی ہے، ہاربر اور فشریز کے اوقات کار شام 6 سے صبح 6 بجے تک ہوں گے، صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے قواعد و ضوابط پر ہر صورت عمل کرنا ہوگا۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی پہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں حکم دیا گیا ہے کہ ماسک، سینیٹائزر اور سماجی فاصلوں کا خیال لازم ہوگا،فش ہاربر، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کا عملہ احتیاطی تدابیرپر عمل کا پابند ہوگا، غیرضروری گاڑیوں اور غیرمتعلقہ افرادکے داخلے پر پابندی ہوگی، شکار کی جانے والی مچھلی کو ہاربر پر اتارنےکی اجازت نہیں ہوگی۔

ایس او پیز کے مطابق فشریز یا ہاربر میں چار سے زائد افراد کے ایک ساتھ جمع ہونے پر پابندی ہوگی جبکہ تین سے پانچ افراد کو مچھلی کی خریداری اور بولی میں شرکت کی اجازت ہوگی، بولی فائنل ہونے کے بعد مچھلی کو متعلقہ گاڑی میں منتقل کرنے کی اجازت ہوگی، جس میں پانچ سے زیادہ مزدور کام نہیں کریں گے۔

نوٹی فکیشن میں حکم دیا گیا ہے کہ مچھلی کی فروخت کےبعد ہاربر کی صفائی لازمی کی جائے گی، مچھلی ایکسپورٹ سے وابستہ عملے اور اُن کی گاڑیوں کا داخلہ واک تھرو سینیٹائزر گیٹ سے ہوگا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو