حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مزار اور ایران

نومبر 2018ء میں ایک انتہائی شرمناک اور افسوس ناک واقعہ ہوا. ایرانی دہشت گرد گروہوں اور بشار الاسد کی فورسز نے بمباری کرکے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا مزار اور ملحقہ مسجد کو شہید کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا جسد خاکی بھی اب مزار میں موجود نہیں ہے۔ حملوں کی ابتدا 2013ء میں لبنان کی حزب اللہ نے کی تھی. جس کے بعد یہ نومبر 2018ء تک متعدد مواقع پر ہوتے رہے۔

کیوں کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ وہ ہیں جنہوں نے فارس، ایران کو ناک رگڑنے پر مجبور کردیا تھا۔ اللہ کی تلوار نے قیصر و کِسریٰ کی بنیادیں ہلا ڈالی تھیں۔ اہل فارس یعنی ایرانی وہ غم اور دکھ آج تک نہیں بھولے۔ وہ چوٹیں آج بھی انہیں یاد ہیں۔ اس کا بدلہ یہ بزدل اب مزاروں سے لے رہے ہیں۔

ایران کا مسئلہ شیعہ سنی نہیں ہے، نہ ہی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے یا اہلبیت سے کبھی کوئی مسئلہ رہا۔ یہ علاقائی قومیت کا تعصب اور نسلی تعصب کا معاملہ ہے. جس نے خلافت عثمانیہ سے بغاوت کروائی.

نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں واضح فرما دیا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پہ اور کسی عجمی کو عربی پہ کوئی فوقیت حاصل نہیں. جس کا مفہوم یہی ہے کہ زبان، علاقے، رنگ و نسل کسی بھی لحاظ سے اسلام میں تفریق کی اجازت نہیں.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو