جہانگیر ترین، شھباز شریف، اسٹیبلشمنٹ اور حکومت … فتح کس کی…؟

مولانا ابوالکلام آزاد نے فرمایا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا جبکہ سیاسیات کے استاد میکائولی کا کہنا تھا کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی.

سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اقتدار کے دوست اور‘ اپوزیشن کے اور ہوتے ہیں۔

حالیہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ باتیں حرف بحرف سچ نظر آتی ہیں، کل کے سیاسی دوست آج کے سیاسی حریفوں میں سب سے آگے نظر آتے ہیں اور جو کل تک ہمسفر نہ تھے وہ آج منزل پر شانہ بشانہ کھڑے استہزائیہ انداز سے مسکراہٹیں بکھیر رہے ہیں، جو ماضی میں الزام عائد کرنے والوں کی صف میں نمایاں تھے، وہ آج دفاع کرنے والوں کی کمان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

آٹا اور چینی بحران کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد وہی جہانگیر ترین آج اپنے گہرے دوست عمران خان سے تعلقات پہلے جیسے نہ ہونے کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں جن سے مشاورت کئے بغیر خان صاحب کسی رہنما کو تحریک انصاف میں شامل نہیں کرتے تھے۔ جس نے دوستی پر اربوں روپے دان کرتے ہوئے کبھی حساب کتاب نہیں رکھا تھا، آج وہ اپنے اوپر 56کروڑ روپے کی سبسڈی لینے کے الزم کی وضاحت کرتے ہوئے دھرنے کی پہلی رات پر لاکھوں روپے کے اخراجات بھی گنوا رہا ہے۔

جس نے ایک ایک اینٹ چن کر تحریک انصاف کے اقتدار کے محل کو کھڑا کیا آج حالات کی ستم ظریفی نے اسے اس حال تک پہنچا دیا کہ ڈاکٹر شہباز گل جیسے نومولود ترجمان اسے اعزازی عہدوں سے محروم کرنے کے بیانات دینے لگے ہیں۔

جیسا شروع میں عرض کیا کہ سیاست کے اس بے رحم کھیل میں کون اپنا کب پرایا بن جائے، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ حالیہ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جو ذوالفقار مرزا، آصف علی زرداری کی ناک کا بال ہوا کرتا تھا وہ ایک دن خم ٹھونک کر ان کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے، جو مصطفیٰ کمال قائد تحریک کو اپنا مائی باپ کہتا تھا وہی اسے قاتل، وطن دشمن اور غدار جیسے القابات سے نوازتا ہے، جو چوہدری نثار تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ تک نواز شریف کا سایہ بن کر ساتھ رہتا تھا، جسے مسلم لیگ ن میں نواز شریف کے بعد طاقتور ترین شخص تصور کیا جاتا تھا، آج ن لیگی اس کا نام تک لینے کے روادار نہیں ہیں۔

وہ بابر اعوان، فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری جیسے بےشمار سیاستدان جو پیپلز پارٹی میں وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے، آج وہ کپتان کے ہاتھ پہ بیعت کرنے کے بعد اسی بھٹو کے وارثوں پر سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں، چیئرمین تحریک انصاف جن کو چور ڈاکو قرار دیا کرتے تھے، بعد میں انھی کی مدد سے پنجاب میں حکومت قائم کرتے ہیں، جس ایم کیو ایم کے خلاف وہ لندن میں جا کر مقدمات قائم کرنے کے دعوے کیا کرتے تھے آج وہ انہی کی کابینہ کا حصہ ہیں، جسے چپڑاسی رکھنے کو تیار نہ تھے آج وہ ان کا سب سے اہم ایڈوائزر ہے۔

ایسی متعدد مثالیں دی جا سکتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیاست میں دوست مستقل ہوتے ہیں نہ دشمن. لیکن یہ بات عمران خان اور ان کی حکومت میں موجود لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی.

اسی تناظر میں جہانگیر ترین اور عمران خان کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ دوری کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ عمران خان کا ریکارڈ اپنے دوستوں کے معاملے میں ایسا ہی ہے. وہ نوازشریف سے گھر، ہسپتال کیلئے زمین، کروڑوں روپیہ اور شھباز شریف سے نمل کالج کیلئے زمین لینے کے بعد انھی کے خلاف محاذ کھول کر بیٹھ گئے.

بیان کردہ مثالوں کی روشنی میں یقیناً یہ قیافہ لگایا جا سکتا ہے کہ اب دونوں کے درمیان تعلقات میں وہ پہلے جیسے گرمجوشی آ سکتی ہے اور نہ ہی اعتماد کا وہ رشتہ ازسر نو قائم ہو سکتا ہے، یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ عمران خان کی حکومت پر اتنی بھاری ’’سرمایہ کاری‘‘ کرنے کے باوجود ان کے دامن پہ جو داغ لگائے گئے ہیں وہ انہیں چھپا کر خاموشی سے بیٹھ جائیں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کو اپنی اہمیت جتانے کے لئے جہانگیر ترین وہ تمام سیاسی پتے کھیلیں گے جو بدستور ان کی مٹھی میں ہیں، جنوبی پنجاب میں جہانگیر ترین کا سیاسی قلعہ بہت مضبوط ہے اور چوہدری برادران سے گہرے تعلقات کی وجہ سے موجودہ سیٹ اَپ میں جہاں ان کی پوزیشن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہاں پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی نشستوں کا معمولی فرق بھی تحریک انصاف کے لئے کسی بھی وقت ڈرائونا خواب بن سکتا ہے۔

پی ٹی آئی اور اس کے ’’خیر خواہوں‘‘ کو اس کا بخوبی ادراک ہے، اسی لئے پیش بندی کے طور پر پہلے خسرو بختیار کا صرف قلمدان تبدیل کر کے انہیں جہانگیر ترین سے الگ کرنے کی چال چلی گئی اور پھر ترین گروپ کے اہم ساتھی عبد العلیم خان کو فوری طور پر سینئر وزیر بنا دیا گیا ہے؛ تاہم اقتدار کے ایوانوں میں پس پردہ ہونے والی تیاریوں سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ سیاسی بساط بچھ چکی ہے اور ہر فریق نے اپنی چال چلنے کے لئے مہرے ترتیب دینا شروع کر دئیے ہیں۔

پھر بھی کسی کو شک ہے کہ یہ سب چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے والی بات ہے تو وہ شہباز شریف کی لندن واپسی، کورونا سے نمٹنے کے بہانے متحرک ہونے، خواجہ برادران سے ملاقات کرنے اور اگلے ہی روز اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کے لئے خواجہ برادران کا ان کے گھر پہنچنے کی کڑیوں کو ملا لے۔

اس کے ساتھ ہی رانا ثناء اللہ، سردار ایاز صادق اور رانا تنویر کے حکومتی ارکانِ اسمبلی سے رابطوں اور جہانگیر ترین کی جنوبی پنجاب کے ایم پی ایز کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں کے بارے میں جانکاری حاصل کر لے تو تصویر کافی حد تک واضح ہو جائے گی، قارئین ان کڑیوں کو ملاتے ہوئے میکائولی کا یہ قول ضرور ذہن میں رکھیں کہ سیاست میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو