جولائی اور اگست، برآمدات میں کمی حکومت کیلیے غیر متوقع رہی

پاکستان کے تجارتی خسارہ گزشتہ دو ماہ کے دوران کم ہو کر 3 ارب 40 کروڑ ڈالر تک رہ گیا ہے تاہم حکومتی توتعات کے برعکس اسی عرصہ میں برامدات بڑھنے کے بجائے مزید 4 فیصد کم ہو گئی ہیں۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس اسی عرصہ کے دوران تجارتی خسارہ 3.7ارب ڈالر تھا جو اب کم ہو کر 3 ارب 40 کروڑ ڈالر رہ گیا ہے۔ اس کی وجہ درآمدات میں کمی ہے یعنی اس میں 30 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی، اسی عرصے کے دوران مجموعی طور پر درآمدات میں 6 اعشاریہ 3 فیصد کی کمی ہوئی اور تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات درآمد کی گئیں۔

دوسری جانب جولائی اور اگست کے دوران برآمدات میں کمی حکومت کے لیے غیر متوقع رہی کیونکہ چند ہفتوں قبل ہی حکومت نے کہا تھا کہ پاکستانی معیشت کورونا وبا کے منفی اثرات سے نکل آئی ہے اور بحالی کی جانب گامزن ہے مگر برامدات پہلے دو ماہ کے دوران 4 اعشاریہ 2 فیصد منفی نظر آتی ہیں اور اس عرصے میں صرف 3 ارب 60 کروڑ مالیت کی منصوعات برآمد کی گئیں یعنی گزشتہ مالی سال میں جولائی اور اگست کے دوران کی گئی برآمدات میں 16کروڑکی کمی نظر آتی ہے۔

ایک ہفتے قبل وزیر مالیات نے کہا تھا کہ امید ہے کہ اگست کے دوران برآمدات جولائی کے آس پاس ہی رہیں گیں.

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں یا اس میں بہتری آئے گی یا اس کے برابر ہی رہے گی تاہم اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو