جراثیم کو ہلاک کرنے والی پرانی اینٹی بایوٹک پر نئے تجربات

امپیریل کالج لندن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 74 سال پرانی ایک اینٹی بایوٹک آج کے نئے اور سخت جان جرثوموں (بیکٹیریا) کے خلاف بھی مؤثر ہے جس کی وجہ شاید اس کا وہ منفرد انداز ہے جس سے یہ کسی بھی جرثومے کو ہلاک کرتی ہے۔

واضح رہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جرثوموں میں ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) کے خلاف مزاحمت پیدا ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ سے کئی بیماریوں کا علاج بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

طبّی ماہرین کو خطرہ ہے کہ اگر جرثوموں میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت اسی طرح بڑھتی رہی تو اگلے چند سال میں بیشتر بیماریوں کا علاج ناممکن ہوجائے گا۔

اسی سوچ کے تحت ماہرین نہ صرف نئی سے نئی اینٹی بایوٹکس ڈھونڈنے کی کوششیں کر رہے ہیں بلکہ پرانی اور متروکہ تدابیر بھی ایک بار پھر آزمانے میں مصروف ہیں۔

تازہ مطالعے میں جس دوا پر تحقیق کی گئی ہے اس کا نام ’’کولسٹین‘‘ (colistin) ہے جو 1947ء سے جراثیم کے علاج میں آخری حربے کے طور پر استعمال کی جارہی ہے تاہم آج اس کا استعمال بہت کم رہ گیا ہے اور اسے بہت ہی کم مواقع پر تجویز کیا جاتا ہے۔

کسی بھی جرثومے کے گرد دو جھلیاں ہوتی ہیں جو اسے محفوظ بناتی ہیں۔ کولسٹین کسی تیز دھار بھالے کی طرح ان دونوں جھلیوں کو پھاڑ کر جراثیم کو موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔

یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے خلاف جرثوموں میں اب تک کوئی مزاحمت پیدا نہیں ہوسکی ہے۔ لیکن اس تدبیر کے کچھ منفی اثرات بھی ہیں جن کی وجہ سے یہ تب ہی استعمال کی جاتی ہے جب دوسری تمام اینٹی بایوٹکس ناکارہ ثابت ہوجائیں۔ البتہ، ایسی صورت میں بھی بہت زیادہ احتیاط برتنا ہوتی ہے۔

امپیریل کالج لندن میں تجربات کے دوران کولسٹین کو مختلف نئے اور سخت جان جرثوموں کے خلاف آزمایا گیا، جو ایک بار پھر ماہرین کی توقعات پر پوری اتری۔

تاہم اس بار ماہرین کا مقصد اضافی طور پر یہ بھی جاننا تھا کہ کولسٹین آخر کس طرح عمل کرتی ہے کہ بیکٹیریا کی دونوں حفاظتی جھلیوں کے پرخچے اُڑا دیتی ہے۔

اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے تو اسی انداز کو دوسری اینٹی بایوٹکس میں پیدا کرکے ان کی اثر پذیری بھی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔

تازہ تحقیق سے اتنا تو پتا چل گیا ہے کہ کولسٹین کسی جرثومے کی دونوں جھلیوں کو یکساں انداز سے پھاڑتی ہے لیکن ابھی اس عمل کی مزید جزئیات کا تعین کرنا باقی ہے، جس کے بعد اس تکنیک کو دوسری اینٹی بایوٹکس کی از سرِ نو تیاری میں بھی آزمایا جائے گا۔

اس تحقیق کی تفصیلات آن لائن ریسرچ جرنل ’’ای لائف‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو