تیل کی گرتی قیمت سے امریکہ پریشان

امریکہ میں خام تیل کی قیمت ایک ڈالر سے بھی کم ہونے کے بعد صدر ڈونلڈٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ سعودی عرب سے تیل درآمدات روکنے پر غور کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ نے اپنے اسٹرٹیجک ذخائر میں 75ملین بیرل تیل کا اضافہ کردیا ہے اور تیل کی قیمتوں میں تاریخی گراوٹ کا مزید فائدہ اٹھایا جائے گا۔

گزشتہ روز امریکی آئل مارکیٹ کریش کر گئی تھی اور ویسٹ ٹیکساس خام تیل کی قیمت تاریخ میں پہلی مرتبہ منفی زون میں چلی گئی۔

امریکی مارکیٹ میں مئی میں ڈلیوری کے لیے خام تیل کے سودے منفی ایک ڈالر اور اٹھانوے سینیٹ میں طے کیے جاتے رہے۔

مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت سو فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق طلب نہ ہونے پر امریکہ میں تیل کے ذخائر بھر چکے ہیں۔

آئل ریفائنریز کے پاس خام تیل ذخیرہ کرنے کی جگہ ختم ہو رہی ہے اور مارکیٹ میں ڈیلرز مفت میں خام تیل لینے کو تیار نہیں ہیں۔

بلومبرگ کے مطابق 1946ء کے بعد سے یہ ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ کمی ہے۔ جون میں ڈلیوری کے لیے امریکی خام تیل کی قیمت اکیس ڈالر ساٹھ سینٹ فی بیرل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں

مینو